ویب ڈیسک: جاپانی وزیرِ اعظم شیگرو ایشیبا نے حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا، یہ اعلان جولائی کے انتخابات میں تاریخی شکست کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔
68 سالہ ایشیبا نے ابتدا میں مستعفی ہونے کے مطالبات کو مسترد کیا تھا، اور کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم، حالیہ انتخابی ناکامیوں اور پارٹی کے اندرونی دباؤ کے باعث انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔
گزشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد، ان کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دی، جبکہ اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد نچلے ایوان میں بھی اقلیت میں آ گیا۔
مہنگائی اور عوامی بے چینی کے باعث حکومت کی مقبولیت میں کمی آئی، جس نے پالیسیوں کے نفاذ کو مشکل بنا دیا۔ پارٹی کے اندر خاص طور پر دائیں بازو کے ارکان کی جانب سے انہیں مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی شب جاپان کے وزیر زراعت اور ایک سابق وزیرِ اعظم نے ایشیبا سے ملاقات کر کے انہیں استعفیٰ دینے پر آمادہ کیا۔ حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا، تاہم تصدیق کی گئی ہے کہ ایشیبا اتوار کی شام صحافیوں سے خطاب کریں گے۔
ایل ڈی پی پیر کو قیادت کے نئے انتخابات پر غور کرے گی۔ متوقع امیدواروں میں قدامت پسند سناے تاکائیچی اور موجودہ وزیرِ زراعت شنجیرو کوئزومی شامل ہیں۔