ایئرلائن انتظامیہ کا معذور مسافر کیساتھ انسانیت سوز سلوک

 ایئرلائن انتظامیہ کا معذور مسافر کیساتھ انسانیت سوز سلوک

ویب ڈیسک: بین الاقوامی ایئرلائن ایزی جیٹ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی جب ایک معذور شخص کو محض اس بنا پر پرواز سے اتار دیا گیا کہ وہ بیت الخلا تک پیدل چلنے سے قاصر تھا۔

 یہ واقعہ پرواز کی روانگی سے محض چند لمحے قبل پیش آیا، ایئر لائن انتظامیہ کے اس رویے پر  انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

متاثرہ شخص، جو اپنی نشست پر موجود تھا، کو عملے کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ آیا وہ خود سے بیت الخلا تک جا سکتا ہے یا نہیں۔ جب اُس نے جواب دیا کہ اُسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو ایئرلائن کے عملے نے اُسے "سفر کے لیے نااہل" قرار دیتے ہوئے پرواز سے نکال دیا۔

واقعے پر متاثرہ مسافر کا کہنا تھا کہ اُس کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کیا گیا, "مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ایک بوجھ ہوں، نہ کہ ایک انسان۔ میرے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ ناقابلِ برداشت ہے،"
سوشل میڈیا پر جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی، صارفین نے ایزی جیٹ کو آڑے ہاتھوں لیا,  ہزاروں افراد نے ٹوئٹر اور فیس بک پر ایئرلائن کے خلاف آواز بلند کی، اور اسے معذور افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کی شرمناک مثال قرار دیا۔

اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایزی جیٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ایزی جیٹ تمام مسافروں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی سفر کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم حفاظتی اصولوں کے تحت مخصوص حالات میں فیصلہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ ہم اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔‘
معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے بھی ایزی جیٹ سے باضابطہ معذرت اور پالیسی میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

Watch Live Public News