ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
کیپشن: ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کے بعد بھارت میں سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی سفارت کاری کو تنقید کا سامنا ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی موجودگی کو نمایاں کیا ہے، جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض مبصرین نے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا- ایران جنگ بندی میں پاکستان کا کردار وزیراعظم مودی کی ذاتی سفارت کاری کے دعوؤں کے برعکس ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ اس پیشرفت سے بھارت کی وہ پالیسی متاثر ہوئی ہے جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے پر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال بھارتی سفارت کاری کے طریقہ کار اور مؤثریت دونوں پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے بھارتی عسکری کارروائیوں اور ماضی کے فیصلوں پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بعض اہم اقدامات کی مکمل وضاحت نہیں دی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اقدامات میں دو ہفتوں کی مہلت کا اعلان کیا، جبکہ ایران کی قیادت نے بھی جنگ بندی کی حمایت کی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News