ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے ‘وزیراعظم پیٹرول سبسڈی پیکیج’ کے تحت مالی امداد کی فراہمی کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 32 ہزار سے زائد مستحقین کو 1.2 ارب روپے ڈیجیٹل طریقے سے منتقل کر دیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنا اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سہارا دینا ہے، تاکہ معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
حکومت نے اس ریلیف پیکیج کے لیے Easypaisa کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کے ذریعے بسوں، ٹرکوں، بڑے مال بردار ٹریلرز اور ڈیلیوری وینز کے مالکان کو براہِ راست ادائیاں کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ کے استعمال سے نہ صرف ترسیل کا عمل تیز ہوا ہے بلکہ شفافیت بھی یقینی بنائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ٹرک آپریٹرز اور بھاری گاڑیوں کے مالکان کو رقم منتقل کی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ٹینک لاریوں، بسوں اور موٹر سائیکل سواروں کو بھی اس پیکیج میں شامل کیا جائے گا۔
جہانزیب خان نے اسے حکومت کے ساتھ ایک اہم شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پلیٹ فارم بروقت مالی امداد کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر فعال ہے۔
دریں اثنا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں پاکستان کے جدید مالیاتی نظام کا اہم ستون بن چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام سے روایتی کاغذی کارروائی اور نقد تقسیم کے طریقہ کار پر انحصار کم ہوگا، جس سے مالیاتی شمولیت کو فروغ ملے گا۔