ویب ڈیسک: اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) اور بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں حسین ابراہیم طہٰ نے تینوں ممالک کی قیادت اور ان کی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں یہ معاہدہ طے پایا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ خطے اور مسلم دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے مطابق یہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور رکن ممالک کے درمیان یکجہتی و تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔
دوسری جانب بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بحرینی وزارت خارجہ نے تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی مہارت کو اجاگر کرتے ہوئے معاہدے کو وسیع تر علاقائی دفاعی نظام میں اہم اضافہ قرار دیا۔
بحرینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق یہ معاہدہ علاقائی سلامتی و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے تینوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دفاعی معاہدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجتماعی دفاعی نظام کو باہمی یکجہتی اور اسٹریٹجک تعاون کے ذریعے مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی بحرین کی اپنی سلامتی کے لیے بھی ناگزیر ہے، اس لیے وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
بحرینی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ بحرین علاقائی سالمیت کے تحفظ اور علاقائی تنازعات کے سیاسی حل کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔