’سیالکوٹ واقعہ افسوس ناک، کوئی اخلاقی جواز نہیں‘

’سیالکوٹ واقعہ افسوس ناک، کوئی اخلاقی جواز نہیں‘
برسلز ( پبلک نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس کا کوئی اخلاقی، انسانی جواز نہی۔ افغانستان کی صورتحال پر قابو پانا سب کے مفاد میں ہے۔ دورہ بیلجیئم کے حوالے سے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیلجیئم کے کسی وزیر خارجہ کے ساتھ دس سال کے وقفے کے بعد دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ ہم نے دو طرفہ تعلقات کی تمام جہتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سائنسی، تعلیمی اور زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ بیلجیئم کی وزیر خارجہ نے افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں کے محفوظ انخلاءمیں پاکستان کے کردار کو سراہا میں نے انہیں دورہء پاکستان کی دعوت دی اور انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کی۔ میری نیٹو ہیڈکوارٹرز میں سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ یہ تعاون آئندہ بھی جاری رہے۔ میں نے جنوبی ایشیا میں امن کو درپیش خطرات سے انہیں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں، میں نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ موگرینی کے ساتھ "اسٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان" پر دستخط کیے یہ اس کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہے جو موجودہ یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ جوزف بوریل کے ساتھ ہوئی جو ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی۔ میں نے انہیں بتایا کہ افغانستان کی صورتحال پر قابو پانا سب کے مفاد میں ہے۔ میں نے انہیں دورہ ءپاکستان کی دعوت بھی دی۔ مزید کہا کہ اگلے برس پاکستان اور یورپی یونین کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر ہم اسلام آباد میں کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ میں برسلز میں ہونے والی ملاقاتوں سے بہت مطمئن جا رہا ہوں۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے انتہائی کھل کر بات ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے وہ ٹھوس اقدامات رکھے جو پاکستان نے دہشت گردی، منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے۔ میں نے انہیں واضح طور پر کہا کہ جہاں بہت سے ممالک پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں وہاں کچھ عناصر ایف اے ٹی ایف کو تکنکی فورم کی بجائے سیاسی فورم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کہا کہ سیالکوٹ کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس کا کوئی اخلاقی، انسانی جواز نہیں۔ اس واقعہ کے رونما ہونے سے پاکستان کو ندامت اٹھانا پڑی۔ اس وقت تک 132 کے قریب گرفتاریاں ہو چکی ہیں 26 ملزمان جن پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ان کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ میری سری لنکا کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی بھی سری لنکن قیادت سے بات چیت ہوئی۔ وہ پاکستان کی کاوشوں سے مطمئن ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے آئین اور قانون کے مطابق اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے۔ دین بھی اقلیتوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں جہاں اقلیتوں کا جینا دو بھر کیا گیا وہاں پاکستان نے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں سکھوں کیلئے کرتارپور راہداری کو کھولا گیا۔ پاکستان میں دیوالی اور کرسمَس کے تہواروں کو پوری مذہبی آزادی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ جہاں اقلیتوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے تو وہاں میڈیا کی بھی بہت اہم ذمہ داری ہے۔ عدنان بھی اسی مجمعے میں موجود تھا جس کے کردار کو وزیر اعظم عمران خان نے سراہا اور ان کیلئے تمغہ ءشجاعت کا اعلان کیا۔

Watch Live Public News

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔