ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد تحریک انصاف عملاً اپنی سیاسی حیثیت کھو چکی ہے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی رجسٹریشن سے محروم ہو کر انتخابی عمل سے باہر ہو چکی تھی، اور حکومت نے اسے کالعدم قرار دینے پر سنجیدہ غور نہیں کیا تھا۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کی حیثیت کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
قابل اعتماد سیاسی ذرائع کے مطابق، آزاد حیثیت میں منتخب سینیٹرز نے تحریک انصاف سے تعلق توڑ لیا ہے، جس کے باعث یہ پارٹی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں سب سے کمزور گروپ بن گئی ہے۔
اڈیالہ جیل میں سکیورٹی سخت، رینجرز کو بھی تعینات کر دیا گیا
اسی دوران، اڈیالہ جیل کے گرد حفاظتی انتظامات کو غیر معمولی طور پر سخت کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی بڑی تعداد کو آج (پیر) سے متعین کر دیا گیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید اہلکار بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ رینجرز کے دستے بھی جیل کی حفاظت کے لیے الرٹ پر رکھے گئے ہیں۔ جیل میں تین پرتوں کا سکیورٹی نظام قائم کیا گیا ہے، اور صرف وہی افراد جیل کے اندر جا سکیں گے جن کی فہرست انتظامیہ کے پاس ہو گی۔
قیدیوں کے علاج کے انتظامات
جیل کے ذرائع کے مطابق، تحریک انصاف کے بانی کی سابقہ سہولتیں برقرار رکھی گئی ہیں، لیکن ان کی درخواست پر لاہور سے ڈاکٹروں کی ٹیم کو بلوانے کی اجازت دینے کا امکان نہیں ہے۔ قیدیوں کے لیے جیل کے خصوصی ڈاکٹرز کے علاوہ، وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے ماہر ڈاکٹروں کو بھی بلایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے جیل کے ڈاکٹر کی طبی سفارش ضروری ہو گی۔