ویب ڈیسک :امریکا نے گرین لینڈ اور پاناما کینال پر ہرصورت قبضے کا عندیہ دیدیا، گلف آف میکسیکواب سے گلف آف امریکا قرار، حلف سے پہلے حماس نے اسرائیلی یرغمالی نہ چھوڑے تو قیامت برپا ہوگی، نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاماراےلاگو فلوریڈا میں ایک گھنٹے کا طوفانی خطاب ۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ سے دو ٹوک الفاظ میں پوچھا گیا کہ آیا وہ گرین لینڈ اور اسٹریٹجک پاناما کینال کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری یا اقتصادی دباؤ استعمال نہیں کریں گے تو انہوں نے جواب دیا،"میں آپ کو ان دونوں میں سے کسی کے بھی بارے میں یقین دہانی نہیں کروا سکتا۔ لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ، ہمیں اقتصادی تحفظ کے لیے ان کی ضرورت ہے۔"
یہ ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ ماراے لاگو میں 20 جنوری کو واشنگٹن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے دو ہفتے قبل توسیع پسندانہ ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا۔
خلیج میکسیکو اب خلیج امریکا
ٹرمپ نے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا اور میکسیکو اور کینیڈا پر اہم محصولات عائد کرنے کے اپنے وعدے کو دہرایا۔ انہوں نے خلیج کے بارے میں کہا کہ "یہ بہت سارے علاقے پر محیط ہے۔ 'خلیج امریکا' کتنا خوبصورت نام ہے۔"
سابق صدر اوباما بھی ایک پہاڑی کا نام تبدیل کرچکے ہیں
خلیج کا نام تبدیل کرنے کے ان کے وعدے نے شمالی امریکا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی ڈینالی کا نام بدل کر ماؤنٹ میک کینلے کی یادیں تازہ کردیں۔ سابق صدر براک اوباما نے مقامی امریکیوں کی مخالفت کے باوجود الاسکا کے اس پہاڑ کا نام تبدیل کردیا تھا۔
عام طور پر، امریکہ کا بورڈ آف جیوگرافک جغرافیائی ناموں کا تعین کرتا ہے، حالانکہ کئی امریکی صدور نے ایگزیکٹیو احکامات کے ذریعے بھی جغرافیائی خصوصیات کا نام بدلا ہے۔
ٹرمپ بکواس کررہے ہیں ، پاناما کا ردعمل
پاناما نے اپنے موقف کودہراتے ہوئے کہا ہے کہ کہ پانامہ نہر کی خودمختاری موضوع بحث نہیں ہے۔ پانامہ کے صدر نے ٹرمپ کے بیان کو "بکواس" قرار دیا۔
پانامہ کے ہاویئر مارٹینز-آچا نے کہا، صدر جوزے راؤل ملینو نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔" ہماری نہر کی خودمختاری پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی اور یہ نہر ہماری جدوجہد کی تاریخ کا حصہ ہے۔"
مارٹنیز-آچا نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا، "نہر کے انتظام و انصرام کا حق صرف پاناما کے پاس ہیں اور یہ اسی طرح قائم رہے گا۔"
ٹرمپ نے دسمبر میں ایک بیان میں چین کے فوجیوں کو کرسمس کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا، "وہ محبت سے، لیکن غیر قانونی طور پر، پاناما نہر کو چلا رہے ہیں۔"
چین امریکہ کے بعد پاناما کینال کا دوسرا سب سے بڑا صارف ہے، اور وسطی امریکی ملک میں ایک بڑا سرمایہ کار بھی ہے۔
کینال کے داخلی راستوں پر دو بندرگاہوں کا انتظام ہانگ کانگ میں قائم سی کے ہچیسن ہولڈنگز کے ذیلی ادارے کے ذریعے کیا جاتا ہے اور بیجنگ نے آبی گزرگاہ پر ایک نئے پل کے لیے مالی اعانت فراہم کی ہے، لیکن چین نہ تو کینال کا مالک ہے اور نہ ہی اس پر کنٹرول رکھتا ہے اور نہ ہی چینی فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔
'حماس نے یرغمال رہا نہ کیے تو قیامت برپا ہو جائے گی، ٹرمپ نے دھمکی چھ بار کیوں دہرائی؟
ٹرمپ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ "اگر اسرائیلی یرغمالی میرے منصب سنبھالنے تک واپس نہیں آئے تو مشرق وسطیٰ میں قیامت برپا ہو جائے گی اور یہ حماس کے لیے اچھا نہیں ہوگا، اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔"
ٹرمپ نے یرغمالوں کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں چھ بار زور دیتے ہوئے کہا کہ "قیامت برپا ہو جائے گی۔"
نیوز کانفرنس کے موقعے پر ان کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی بھی موجود تھے۔ ایلچی اسٹیو وٹکاف نے حالیہ اعلیٰ سطحی بات چیت کے بارے میں بتایا کہ ان کی ٹیم ایک معاہدے کے حصول کے قریب ہے اور وہ آنے والے دنوں میں واپس خطے میں جائیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے ایلچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "میں آپ کے مذاکرات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔"
یوکرین تنازع ، پیوٹن سے ملوں گا
یوکرین جنگ کے ضمن میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یوکرین تنازعہ کوسلجھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے روس کے صدر سے ملنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
تاہم، انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ وہ کیسے اس معاملے کو سلجھائیں گے۔
جب ان سے یوکرین کے امن منصوبے میں شامل کییف کے نیٹو میں شامل ہونے کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کو ہمیشہ سمجھا گیا کہ یوکرین کو سکیورٹی اتحاد میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
20 جنوری کو بڑی معافیوں کا اعلان ہوگا
اس سوال پر کہ وہ دفتر صدارت میں اپنے پہلے دن کیا کریں گے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ "بڑی معافیاں" دینے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے یہ بات 6 جنوری 2021 کو کانگریس کی عمارت کیپیٹل میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں جرائم کے الزام میں 1500 سے زائد افراد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔
امریکا کو ماحولیات کے قوانین کی دلدل سے نکالیں گے
ٹرمپ نے نے امریکا کو ماحولیات کے حوالے سے متعارف کرائے گئے ضوابط کی "دلدل" سے نکالنے اور ارب پتی سرمایہ کاروں کے لیے راہ ہموار کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
پچھلے سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے ٹرمپ نے الیکٹورل کالج اور پاپولر ووٹ جیتنے کی اپنی دوبارہ فتح کو ایک "لینڈ سلائیڈ" قرار دیا۔
انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ مستقبل کے انتخابی نتائج کی گنتی انتخابات کی رات ہی کی جائے گی۔
سمندر سے تیل نکالنے پر زور
انہوں نے سمندر سے تیل نکالنے کے بارے میں اپنے ارادے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں بائیڈن کے حالیہ حفاظتی احکامات کو الٹ دیں گے۔
ٹرمپ نے بائیڈن پر خارجہ پالیسی میں خرابی کا الزام لگایا ۔
انہوں نے کہا،" میں ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہوں جو جل رہی ہے۔"