(ویب ڈیسک ) مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پریشر صرف ان کے اپنے بیانات کے علاوہ کوئی پریشر نہیں۔
مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کی ۔اس دوران انہوں نے کہا کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں لیکن اس کے باوجود ایسا پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ جیسے کوئی بڑا ظلم یا زیادتی حکومت کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے منسلک کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ، علیمہ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں زہر دینے کا الزام لگایا تھا ، علی امین گنڈا پور اور شیر افضل مروت کے حوالے سے جو گفتگو ہوئی وہ بھی سامنے ہے ۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے جسے اسے عروج پر پہنچانے کا کہا جاتا ہے اسی نے بھٹہ بٹھا دیا ہے ۔
مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینی شہدا کی ایمبولینسز تک کی تصاویر کو اپنے مقاصد کیلئے پی ٹی آئی نے تسلیم کیا، بانی پی ٹی آئی کے اردگرد جو لوگ ان سے منسلک ہیں اوران کے ترجمان ہیں، ان کے رویے اس بات کے غماز ہیں کہ وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ علیمہ خان کی ان کے سوشل میڈیا آپریٹر سے گفتگو کی ہے، علیمہ خان نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کسی قسم کی سہولت کی بات نہیں کرنی چاہئے اس سے پی ٹی آئی کا بیانیہ متاثر ہوتا ہے، یہ پراپیگنڈہ اس لئے کیا جارہاہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی پر بڑا ظلم ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اندرونی لڑائی اس وقت پی ٹی آئی کے اندر ہے، جس جماعت میں لوگ اس قسم کی گھٹیا لڑائی ہورہی ہو ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے، بانی پی ٹی آئی کا اداروں اور ریاست کے حوالے سے جو موقف ہے وہ سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے 2سال پہلے ننکانہ صاحب کے واقعے کو چوبیس نومبر کا واقعہ بتایا گیا، فلسطین میں ہونیوالے مظالم کو ڈی چوک میں ہونیوالے واقعات بناکر پیش کیا گیا۔
مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ آج تک کوئی ایک بندہ سامنے نہیں آیا جس نے کہا ہو وہ ڈی چوک میں تھا اور اس سے کوئی نقصان ہوا ہے، انہوں نے کسی تھانے میں درخواست نہیں دی کہ ان کیساتھ یہ ہوا ہے، چاہے ان کی درخواست پر کوئی کارروائی نا ہوتی لیکن انہیں درخواست تو دینا تھی۔
رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہورہے ہیں، امید ہے آنیوالے دنوں میں پاکستان مظبوط معاشی ملک بن کر ابھرے گا، پی ٹی آئی چاہتی ہے ملک میں سیاسی استحکام نا آسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پریشر صرف ان کے اپنے بیانات کے علاوہ کوئی پریشر نہیں، جن جن جگہوں سے وہ توقع کرتے ہیں وہاں سے ابھی تک ایک سادہ بیان بھی نہیں آیا۔
مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی میں ہم نے اپنے تمام اتحادیوں کو بھی شامل کیا ہے،ہم نے کہا ہے اپنے مطالبات تحریری صورت میں دیں، انہوں نے کہا ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں، ملاقات کے بعد بھی انہوں نے کہا ہماری ملاقات ٹھیک نہیں کروائی گئی صحیح والی ملاقات کرعائیں، ان کی ملاقات بھی کروا دی جائے گی، بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ تحریری مطالبات نہیں دیں گے۔