ریسرچ کے فنڈز روکنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی سائنسدان بھی سڑکوں پر

Scientists rally in US cities to protest Trump cuts and attack on science
کیپشن: Scientists rally in US cities to protest Trump cuts and attack on science
سورس: google

ویب ڈیسک : صدر ٹرمپ کی  دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آمد کے بعد   وفاقی تحقیقی فنڈز میں کٹوتیوں کے خلاف امریکی سائنس دان  سڑکوں پر آگئے۔مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ،مخالفانہ نعرے ، احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متعدد ایجنسیوں کے عملے کو نکالنے اور جان بچانے سے متعلق تحقیق کو روکنے کی کوششوں کے خلاف سائنس دانوں نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں۔

 اس کے علاوہ انتظامیہ عالمی ادارۂ صحت اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے دستبردار ہوئی جبکہ صحت اور موسمیاتی تحقیق پر کام کرنے والے سینکڑوں وفاقی کارکنوں کو برطرف کرنے کی کوشش کی۔

محققین، ڈاکٹروں، انجینئرز، طلباء اور منتخب عہدیداروں نے نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو، وسکونسن کی سڑکوں پر ریلیاں نکالیں اور حکومتی اقدامات کو ’سائنس پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

کولمبیا یونیورسٹی کی چارسو ملین وفاقی گرانٹ منسوخ 

 میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی پر یہودی طالبعلموں کو ہراساں کرنے کا الزام ہے، کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے،جو امریکا کی مختلف جامعات میں پھیل گئے تھے،

احتجاج کے باعث ہارورڈ اور پنسلوینیا یونیورسٹی کے سربراہان کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

بوسٹن کے میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے ایک محقق جیسی ہیٹنر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے اتنا غصہ کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے صحت اور انسانی خدمات کے محکمے کے سربراہ کے طور پر مشہور ویکسین شکی رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی تقرری پر ناگواری کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کسی کو ناسا کا انچارج لگاتے ہیں جو اس تھیوری پر یقین کرتا ہے کہ زمین چپٹی ہے تو یہ ٹھیک نہیں۔‘

واشنگٹن میں مظاہروں کے دوران کچھ ایسے پلے کارڈز پڑھنے کا ملے جن پر لکھا تھا کہ ’سٹینڈ اپ فار سائنس۔ سائنس پر فنڈز لگائیں، ارب پتیوں پر نہیں۔‘

کچھ گرانٹس کی معطلی کی وجہ سے  بعض یونیورسٹیوں کو ڈاکٹریٹ پروگراموں یا تحقیقی عہدوں کے لیے طلباء کی تعداد کو کم کرنا پڑا۔

نیورو سائنس میں ڈاکٹریٹ کی 28 سالہ طالبہ ربیکا گلیسن نے بتایا کہ ’مجھے گھر پر تعلیم حاصل کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ میں یہاں نوکری حاصل کرنے کے اپنے حق کا دفاع کروں۔‘

شارک کے تحفظ پر کام کرنے والی 34 سالہ ماحولیاتی سائنس دان چیلسی گرے نے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن سے منسلک ہونے کا خواب دیکھا تھا تاہم، انہوں نے آئرش پاسپورٹ کی حصولی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

چیلسی گرے نے بتایا کہ ’میں نے اپنے کیریئر کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے دیکھا ہے۔ میں امریکہ کی شہری کے طور پر رہنا اور امریکہ کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن اگر یہ آپشن دستیاب نہیں ہے، تو مجھے تمام دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

Watch Live Public News