(ویب ڈیسک) رواں مالی سال سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف ایف بی آر نےبڑی کاروائیاں کی ہیں ۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی سخت ہدایت پر ٹیکس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھی گئی ۔سیاسی پریشر کے باوجود ٹیکس چوری میں ملوث سگریٹ فیکٹریاں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ۔کریک ڈاؤن میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری بے نقاب کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال مارچ تک غیر قانونی سگریٹوں کے خلاف 710 قانونی کاروائیاں کی گئیں۔مختلف سیاسی خاندانوں کی ملکیتی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کی گئیں۔نومبر 2025 میں ریجنل ٹیکس آفس پشاور کی جانب سے مردان میں انڈس ٹوبیکو کمپنی کو وئیر ہاؤس پر چھاپہ مارا گیا ۔مسلحہ مزاحمت کے باوجود مذکورہ کمپنی کے وئیر ہاؤس سے 200 کارٹن ٹیکس چوری والے سگریٹ قبضہ میں لیے گئے ۔
ذرائع کے مطابق انڈس ٹوبیکو کے مالکان کا تعلق مردان کی مشہور ہوتی فیملی سے ہے۔ انڈس ٹوبیکو کمپنی کے خلاف غیر قانونی طور پر مشینری شفٹ کرنے پر ایک اور کاروائ میں دو مالکان کو بھی حراست میں لیا گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر 2025 میں ایک اور کاروائی سوئینیر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف کی گئی ۔سوئینیر ٹوبیکو کمپنی سینٹر دلاور خان کی ملکیت ہے ۔ ٹیکس چوری میں ملوث ہونے پر مزکورہ فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔سوئینیر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف ٹیکس چوری پر ڈائریکٹرز بشمول فرید خان، رضا شاہ، اعظم خان، عدنان خان، عباس خان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سینئر ٹوبیکو کمپنی کے ڈائریکٹر اعظم خان سینٹر دلاور خان کے بھائی ہیں۔ سوئینیر ٹوبیکو کمپنی کے ڈائریکٹر عدنان خان سینٹر دلاور خان کے بیٹے ہیں۔سینٹر دلاور خان کو ماضی میں غیر قانونی طور پر سینٹ کے مونو گرام کے ساتھ سگریٹ پیکٹ تیاری سکینڈل میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سینٹر دلاور خان اس وقت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ممبر بھی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹر دلاور خان نے قائمہ کمیٹی کی ایک روز پہلے ہونے والی میٹنگ میں مذکورہ سگریٹ فیکٹری کے خلاف قانونی کاروائی پر ایف بی آر کے افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔
ذرائع کے مطابق دسمبر 2025 میں ٹیکس حکام نے مردان میں یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے خلاف کاروائی میں مشینری ضبط کی۔ یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی ٹیکس چوری کی وجہ سے کئ ارب روپے کا خام مال ضبط کیا جا چکا ہے۔ یونیورسل ٹوبیکو کمپنی مردان کے مشہور سیاسی خاندان کی ملکیت ہے۔یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے مالک حاجی نسیم ائررحمان سابقہ ممبر قومی اسمبلی بھی ہیں۔حاجی نسیم ائرحمان کے بھتیجے فیصل سلیم رحمان بھی سینٹر ہیں۔ سینٹر فیصل سلیم اس وقت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چئیرمین بھی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹر فیصل سلیم بطور چئیرمین سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کاروباری مفادات اور ایف آئی اے کی مدد حاصل کرنے کے حوالے متنازعہ ہو چکے ہیں۔
دسمبر 2025 میں خیبر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف بھی ٹیکس حکام کی جانب سے ایک بڑی کاروائ کی گئی،خیبر ٹوبیکو کمپنی پر چھاپہ کے دوران 2.75 ملین تمباکو بغیر ٹیکس ادائیگی کے ضبط کیا گیا۔چھاپہ کے دوران 1ارب سے زائد مالیت کا بغیر ٹیکس ادا کردہ خام مال بھی ضبط کیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق خیبر ٹوبیکو کمپنی سیمسنز گروپ کی ملکیتی سگریٹ کمپنی ہے۔ مشہور مالم جبہ سکینڈل بھی سیمسنز گروپ کو تین سو ایکڑ اراضی لیز پر دینے سے متعلق تھا ۔کچھ سال پہلے خیبر پختون خواہ میں سگریٹ ٹیکس چوری کریک ڈاؤن کے بعد کئی کمپنیوں نے سگریٹ یونٹ آزاد کشمیر شفٹ کر دی تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سگریٹ فیکٹری مالکان کی جانب سے سگریٹ تیاری کی مشینری اندرون سندھ منتقل کر دی گئی ہے۔ اس وقت اندرون سندھ بھی متعدد سگریٹ یونٹ خفیہ طور پر غیر قانونی سگریٹوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ سیاسی دباؤکے باوجود ایف بی آر نے بلاامتیاز سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف قانونی کارروائیاں کی۔ سگریٹ انڈسٹری سے وابستہ سینٹر قائمہ کمیٹیوں کے پلیٹ فارم کے ذریعے افسران پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کر رہے ہیں ،متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں کئ ممبران کا ڈائریکٹ تعلق سگریٹ فیکٹریوں سے ہے۔مفادات کے تحفظ کے لیے ان قائمہ کمیٹیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس چوری کے خلاف کاروائیوں اور اربوں روپے مالیت کے خام مال کی ضبطگی پر متعلقہ ٹیکس حکام کو کمیٹیوں میں شدید تضحیک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔