امریکا:حکومتی شٹ ڈاؤن کا 7واں روز، پروازوں میں تاخیر،ایئرپورٹس پر افراتفری

امریکا:حکومتی شٹ ڈاؤن کا 7واں روز، پروازوں میں تاخیر،ایئرپورٹس پر افراتفری
کیپشن: امریکا:حکومتی شٹ ڈاؤن کا 7واں روز، پروازوں میں تاخیر،ایئرپورٹس پر افراتفری

ویب ڈیسک: امریکا میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے ساتویں روز ملک بھر کے بڑے ایئرپورٹس پر پروازوں میں تاخیر اور نظامِ پرواز میں رکاوٹیں شدت اختیار کر گئیں۔ متعدد ریاستوں میں مسافروں کو گھنٹوں تک ہوائی اڈوں پر انتظار کرنا پڑا جب کہ ایئر ٹریفک کنٹرول اور سیکیورٹی عملے کی محدود دستیابی کے باعث ائرپورٹس پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، لاس اینجلس، ڈلاس اور میامی کے بڑے ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن معمول سے سست ہو چکا ہے۔ بعض پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ درجنوں طیارے تاخیر کا شکار ہوئے۔ ایئر لائنز کے مطابق عملے کی کمی اور سیکیورٹی کلیئرنس کے مراحل میں تاخیر نے پروازوں کے شیڈول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کے بغیر کام پر بلایا جا رہا ہے، جس میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایجنٹس بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی نے تھکن اور مالی مشکلات کے باعث اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضری اختیار کر لی ہے۔

مسافروں نے سوشل میڈیا پر حکومت اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ “ہمیں فلائٹ سے زیادہ حکومت کے فیصلوں کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن مزید چند روز جاری رہا تو ایوی ایشن سیکٹر کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جب کہ سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی پیش رفت کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔

Watch Live Public News