ویب ڈیسک: بہاولنگر میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نوجوان دریائے ستلج کے کنارے واقع پل پر سیلفی لیتے ہوئے دریا میں جاگرا۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ رات تقریباً 2 بجے بھوکاں پتن کے مقام پر پیش آیا جہاں نوجوان نے پل پر خطرناک انداز میں کھڑے ہو کر موبائل فون سے تصویر بنانے کی کوشش کی، لیکن توازن بگڑنے پر وہ نیچے دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، تاہم دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب اور پانی کے شدید بہاؤ کے باعث نوجوان کو تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی تیز رفتار موجیں ریسکیو آپریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بارہا شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ وہ دریا کے کنارے یا پلوں پر کھڑے ہو کر تصاویر یا سیلفیاں نہ بنائیں، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف ان کی زندگی کے لیے خطرہ ہے بلکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی اداروں کے لیے بھی مشکلات کھڑی کرتا ہے۔ اس کے باوجود اکثر نوجوان خبردار کرنے کے باوجود ہدایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کے باعث اس طرح کے افسوسناک حادثات پیش آتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں دریائے ستلج سمیت ملک کے دیگر دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد صورتحال مزید خطرناک بنی ہوئی ہے۔ اس وقت دریاؤں کے کنارے رہائش پذیر ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ ایسے میں حکام نے ایک بار پھر شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور بلاوجہ دریا کے قریب جانے سے گریز کریں۔