امریکی ٹیرف کے اثرات: آئی فون کی قیمتوں میں 3گنا اضافے کا خدشہ

امریکی ٹیرف کے اثرات: آئی فون کی قیمتوں میں 3گنا اضافے کا خدشہ
کیپشن: امریکی ٹیرف کے اثرات: آئی فون کی قیمتوں میں 3گنا اضافے کا خدشہ

ویب ڈیسک: (علی زیدی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر پر تجارتی ٹیرف عائد کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ نوکریاں اور فیکٹریاں واپس امریکا لوٹ آئیں گی۔ تاہم ٹیرف کے نفاذ کے بعد ماہرین کا ماننا ہے کہ گارمنٹس سے لیکر الیکٹرانکس تک امریکی صارفین کو ہر چیز کی قیمت میں اضافہ برداشت کرنا پڑے گا۔ 

سی این این کی رپورٹ کے مطابق آئی فون صارفین کیلئے بری خبر سامنے آگئی ہے۔ مشہور ٹیک تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی فون امریکا میں بنائے گئے تو ان کی قیمت میں 3 گنا سے زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ 1 ہزار ڈالر میں ملنے والا آئی فون 3500 ڈالر میں فروخت ہوگا۔ 

دوسری جانب امریکی صدر نے شہریوں کو امید دلائی ہے کہ ٹیرف کے نفاذ سے بہت سی کمپنیاں امریکا میں منتقل ہوں گی۔ جس سے لاکھوں امریکیوں کو روزگار مل سکے گا۔ 

مالیاتی خدمات کی فرم ویڈبش سیکیورٹیز میں ٹیکنالوجی ریسرچ کے عالمی سربراہ ڈین آئیوس نے سی این این کے ایرن برنیٹ کو بتایا کہ یہ خیال ایک "خام خیالی" ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ساختہ آئی فونز کی قیمت ان کی موجودہ قیمت 1,000 ڈالر سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کا پیداواری نظام انتہائی پیچیدہ ہے اور اس وقت ایشیاء سے آپریٹ ہورہا ہے۔ 

آئی فون کی امریکا منتقلی پر کتنا وقت درکار:

اگر اس انڈسٹری کو فوری طور پر امریکا منتقل کیا گیا تو یہ موبائل فونز کی قیمت میں 3 گنا سے زیادہ اضافہ کردیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق ایپل کو اپنی سپلائی چین کا صرف 10 فیصد حصہ امریکا منتقل کرنے کیلئے 30 بلین ڈالر کی خطیر رقم اور 3 سال کی مدت درکار ہے۔ 

آئی فون کی تیاری ایشیاء کیوں منتقل ہوئی؟

اسمارٹ فون کے پرزوں کی تیاری اور اسمبلی دہائیوں قبل ایشیاء منتقل ہوگئی تھی کیونکہ امریکی کمپنیوں نے بڑی حد تک سافٹ ویئر کی ترقی اور مصنوعات کے ڈیزائن پر توجہ مرکوز کررکھی تھی کیونکہ اس میں منافع کا مارجن زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ 

ایپل کے شیئرز میں کمی:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایپل اپنی قدر کا تقریبا 25 فیصد کھوچکے ہیں۔ ایپل اس وقت تائیوان اور چین پر زیادہ منحصر کرتا ہے اور 90 فیصد آئی فونز چین میں اسمبل ہورہے ہیں۔ 

ایپل کا انحصار تائیوان اور چین پر کیوں؟

جنوری کے آخر میں ٹرمپ کے افتتاح کے بعد سے، ایپل کے حصص اس کی وسیع و عریض سپلائی چین پر محصولات کے اثرات کے خدشات کی وجہ سے اپنی قیمت کا تقریباً 25 فیصد کھو چکے ہیں، جو چین اور تائیوان پر بہت زیادہ منحصر ہے۔ تقریباً 90 فیصد آئی فونز چین میں اسمبل ہوتے ہیں۔

آئی فونز کی چپس تائیوان میں تیار کی جاتی ہیں جبکہ اس کے اسکرین پینل جنوبی کوریا کی کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ اس کے بعد کچھ بنیادی پارٹس چین میں تیار کیے جاتے ہیں۔ 

ایپل کا امریکا میں 500 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان:

اس سے قبل رواں سال فروری میں ایپل نے اعلان کیا کہ وہ چین سے باہر پیداوار کو بڑھانے اور ٹرمپ کے محصولات سے بچنے کی کوشش کے تحت اگلے چار سالوں میں امریکہ میں $500 بلین کی سرمایہ کاری کرے گا۔

دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آئی فون موجودہ جگہ پر ہی تیار ہوتے ہیں تب بھی اس کی لاگت میں 43 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور آئی فون کی قیمت 30 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ 

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر