کیا آپ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جاسکتے؟صحافی کے سوال پر بلاول نے کیا جواب دیا

کیا آپ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جاسکتے؟صحافی کے سوال پر بلاول نے کیا جواب دیا

(ویب ڈیسک ) صحافی کے سوال کیا آپ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جاسکتے ؟ کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ نوازشریف سے کوٹ لکھپت ملنے بھی گیا باہر بھی نکلے لیکن پھر باہر نکل کر حملے کرنے لگ جاتے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی خوبی رہی ہم جمہوری بھی رہے اور گورنر راج بھی لگائے۔ پنجاب اسمبلی نے ایک صوبہ بنانے کیلئے قراردار پاس کی، نیشنل اسمبلی میں نئے صوبے بنانے کیلئے اتفاق رائے موجود ہے۔20 صوبے بنانے سے پہلے جہاں نئے صوبے بنانے سے متعلق جہاں اتفاق رائے موجود ہے پہلے وہاں بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس وقت میری اکثریت نہیں تھی جب نئے صوبے بنانے پر اتفاق تھا ،جو ان کی اپنی تجاویز ہے اس پر عملدآمد ہونا ہے تو فوری کریں، جو کام ہونا تھا وہ تو ہو ہی رہا ہے، پنجاب سے بلدیاتی نظام پاس کروایا وہ سندھ سے کمپئیر کریں ،سندھ کا زیادہ مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ  مفاہمت ہی طریقہ ہے کہ ملک آگے بڑھے،مفاہمت ہوگی تو سب کو ایک ہونا پڑے گا تاکہ سیاسی استحکام کی طرف بڑھے،اگر ایسے ماحول میں رہیں گے کہ ایک دوسرے سے بات نہ کرسکیں اور پھر ایک صوبے کے حالات خراب ہوں تو مسائل ہونگے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ  عدم اعتماد ہم لیکر آئے پہلی بار ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا، پی ٹی آئی کا رویہ مسلسل خراب رہا،ابھی بھی وہ اسی اینگل پر لگا ہوا ہے جس سے ناصرف پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ پورا سسٹم اسٹریس میں آجاتا ہے،جس صوبہ کی پی ٹی آئی کی زمہ داری ہے وہاں انکی حکومت ناکام ہوچکی، اگر یہی حالات رہے تو پھر سیاسی مفاہمت کی طرف راستہ نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ  پیپلز پارٹی جب قدم بڑھانے کےلئے تیار ہوتی ہے تو پھر دوسری طرف حالات خراب ہوجاتے،ہضم نہیں ہوتا کسی کو،  میں پنجاب میں آکر کسی کے خلاف نہیں بولتا مگر پھر بھی برداشت نہیں ہوتا۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ  میں کہتا ہوں وہ اپنا سندھ میں گورنر لگا دیں وہ آئیں مگر وہ نہیں آتے، پنجاب میں ہم آتے ہیں مگر برداشت ہی نہیں ہوتا۔

Watch Live Public News