آئندہ 5ماہ افراط زرمیں اتارچڑھاؤرہے گا،گورنراسٹیٹ بینک

آئندہ 5ماہ افراط زرمیں اتارچڑھاؤرہے گا،گورنراسٹیٹ بینک
کیپشن: آئندہ 5ماہ افراط زرمیں اتارچڑھاؤرہے گا،گورنراسٹیٹ بینک

ویب ڈیسک: گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمدنے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئندہ 4 سے5 ماہ افراط زر میں اتارچڑھاؤ رہے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری میں افراطِ زر میں کمی آئے گی۔تاہم جنوری کے بعد 4 سے 5 ماہ افراطِ زر میں اتار چڑھاؤ رہے گا۔کرنٹ اکاؤنٹ بہتر ہے جس میں برآمدات اور ترسیلات زر کا اہم کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ایکسپورٹس کی نمو سے کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے گی۔مالی سال 25ء میں ترسیلات زر 35 ارب ڈالر تک بڑھنے کا تخمینہ ہے۔ جون 2022ء میں ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر کے قریب تھا۔ستمبر 2024ء میں حکومتی قرضے 100.08 ارب ڈالر تھے۔
گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ  مجموعی طور پر قرضوں کی ادائیگی میں بہتری آئی ہے۔قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں سے اتارا گیا۔قرضوں کی ادائیگی پر شرح سود کم ہوگی۔مسائل کے حل کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری ہے۔جنوری 2023ء میں کاروبار بالخصوص امپورٹس کے کافی مسائل تھے۔2023ء کے آغاز میں 10 ہزار سے زائد امپورٹ ریکوئسٹس موجود تھیں۔جنوری 2023ء میں زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر تھے۔جنوری 2023ء میں ترسیلات زر ماہانہ 2 ارب ڈالر تک گر گئے تھے۔جنوری 2023ء میں شدید چیلنجز کا سامنا تھا جن میں ابھی کافی بہتری آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے امپورٹس پر اب قدغن نہیں ہے ۔2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ساڑھے 17 ارب ڈالر خسارے میں تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.7 فیصد تھا۔2024ء میں کرنٹ اکاؤنٹ 0.5 فیصد تک کم ہوگیا۔رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا سلسلہ جاری رہے گا۔فاریکس مارکیٹ میں لیکیوڈیٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
2023ء کی پہلی ششماہی تک افراطِ زر سالانہ 38 فیصد تک پہنچ گیا۔مالی سال 25ء کی چوتھی سہ ماہی میں افراطِ زر بڑھ سکتا ہے۔جون 2025ء میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔مرکزی بینک اپنا کام کررہا ہے، صنعت بھی قیمتوں کو مستحکم رکھے۔مالی سال 25ء کے اختتام تک افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد تک مستحکم کر دیں گے۔

Watch Live Public News