ویب ڈیسک: یورپی رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں ایلون مسک پر مختلف معاملات میں تنقید کی ہے۔ یورپی یونین نے ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر غلط معلومات اور غیر قانونی مواد کی روک تھام میں ناکامی پر کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
یورپی کمیشن کے انٹرنل مارکیٹ کے کمشنر تھیری بریٹن نے کہا کہ ' ایکس' نے اشتہارات کی شفافیت کو یقینی نہیں بنایا اور غیر قانونی مواد کی روک تھام میں ناکام رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے بھی ایلون مسک کی جانب سے ان پر اور ان کی حکومت پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کیا ہے، مسک نے برطانوی حکومت پر بچوں کے اسکینڈلز سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا اور وزیر اعظم کو جیل میں ہونے کا کہا تھا۔ اس کے جواب میں، سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ جو لوگ جھوٹ اور غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، وہ متاثرین میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اپنی ذات کے بارے میں فکر مند ہیں۔
مزید برآں، ایلون مسک نے یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں اور شخصیات کی حمایت کی ہے، جس پر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے، انہوں نے برطانیہ کی 'ریفارم یوکے' اور جرمنی کی 'آلٹرنیٹیو فار جرمنی' جیسی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، مسک نے جیل میں بند برطانوی دائیں بازو کے انتہا پسند ٹومی رابنسن کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ان تمام معاملات کے باعث ایلون مسک کو یورپی رہنماؤں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہناتھا کہ ایکس کے مالک اور امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی ایلون مسلک کھلم کھلا ’ہمارے اداروں پر حملہ کرتے ہیں اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔‘
رواں ہفتے ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر ستورے نے بھی ایلون مسک کی جانب سے دیگر ممالک کے سیاسی معاملات میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔