ویب ڈیسک: بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان برقرار ہے، جہاں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔ چار کاروباری سیشنز کے دوران بی ایس ای سینسیکس مجموعی طور پر 1,581 پوائنٹس کی کمی کا شکار ہو چکا ہے جبکہ نفٹی میں 1.7 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
تازہ ترین کاروباری سیشن میں سینسیکس 780.18 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کمی کے بعد 84,180.96 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50 میں 263.90 پوائنٹس یا ایک فیصد کمی دیکھی گئی اور انڈیکس 25,876.85 پوائنٹس پر آ کر بند ہوا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ کی مجموعی مالیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن چار دنوں میں 9.19 لاکھ کروڑ روپے کم ہو کر 472 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی ہے، جو سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور خوف کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اس شدید مندی کی بڑی وجوہات میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی پالیسیوں کے اشارے اور کمپنیوں کے ملے جلے مالی نتائج شامل ہیں۔ خاص طور پر روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیوں نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دو طرفہ امریکی بل کی حمایت کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت روسی درآمدات پر کم از کم 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے جو رعایتی روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں بھارت، چین اور برازیل شامل ہیں۔
اگرچہ یہ بل تاحال منظور نہیں ہوا، تاہم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق اسے آئندہ ہفتے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے، کیونکہ روسی تیل پر انحصار کرنے والی بھارتی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار فی الحال رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں مسلسل فروخت کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔