ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں دو روز کے دوران دوسری ملاقات ہوئی، تاہم اس ملاقات کی نوعیت اور تفصیلات سے متعلق کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات عشائیے پر ہوئی، جو تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات کے بعد نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا۔ نیتن یاہو میڈیا سے گفتگو کیے بغیر وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے، جس پر مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
الجزیرہ کے نمائندے کے مطابق ملاقات کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ممکنہ طور پر کسی حساس معاملے پر اختلاف یا پیچیدگی پیدا ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بارے میں مثبت بیانات دیے تھے، لیکن اس غیر روایتی خاموشی نے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ملاقات سے قبل بیان دیا تھا کہ وہ غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو کریں گے اور اس مسئلے کا جلد حل نکالا جانا ضروری ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چار میں سے تین نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فریقین کے درمیان جنگ بندی پر کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، تاہم فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی کے طریقہ کار پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ دیگر معاملات، خاص طور پر غزہ سے انخلا اور اسرائیلی افواج کی موجودگی سے متعلق، تاحال زیرِ بحث ہیں۔
اسی دوران صدر ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ، اسٹیو وٹکوف، نے اپنا دوحہ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا تھا۔ وٹکوف کو امید تھی کہ ہفتے کے اختتام تک 60 روزہ جنگ بندی طے پا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی آمد سے قبل قطری وفد نے بھی وائٹ ہاؤس میں سینئر امریکی حکام سے کئی گھنٹے طویل ملاقاتیں کی تھیں، جن کا مقصد غزہ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔