ویب ڈیسک: پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں ترک وزیر خارجہ حکان فدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں اور مختلف شعبوں میں مشترکہ کمیٹیوں کے ذریعے فعال تعاون جاری ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور دفاع کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث مسرت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جن میں اقتصادی، تعلیمی، دفاعی اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق، کراچی میں ترک تاجروں کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام اور آزاد کشمیر میں ترکیہ کا معروف تعلیمی ادارہ کھولنے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی ہے۔
اس موقع پر ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسحاق ڈار کے بیان کو دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں اور ان تعلقات کو ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع، ثقافت اور معیشت سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی ہے، اور دونوں فریقین باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ حکان فدان کے مطابق پاکستان اور ترکیہ تیل و گیس کے شعبے میں بھی باہمی شراکت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ضبط و تحمل کو سراہا، اور کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے دانشمندانہ رویہ اپنایا۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور قبرص کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کو ترکیہ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
قبل ازیں، ترک وزیر خارجہ حکان فدان اور وزیر دفاع یاشر گوولر نے دفتر خارجہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ سرکاری دورے پر آئے ترک وفد کی وزیراعظم سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔