(ویب ڈیسک) اگر آپ کو 9 جولائی کا دن عام دنوں سے بھی چھوٹا محسوس ہو تو حیران نہ ہوں، سائنسدانوں کے مطابق زمین کی گردش میں غیرمعمولی تیزی کے باعث یہ دن ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے مختصر دن ہوگا۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس وقت زمین اچانک تیزی سے گھوم رہی ہے، جس کی وجہ چاند کی مخصوص پوزیشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کے روز زمین کی گردش معمول سے 1.3 سے 1.6 ملی سیکنڈ کم ہوگی، یعنی دن معمول سے اتنا ہی مختصر ہو جائے گا۔

فورس (قدرتی توازن) میں حالیہ خلل 2020 کے بعد چھٹا واقعہ ہوگا، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی رکے گا نہیں۔
بین الاقوامی ادارہ "انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹمز سروس" (IERS) کے مطابق 22 جولائی اور 5 اگست کے دن بھی معمول سے چھوٹے ہوں گے۔
یہ ادارہ زمین کی گردش میں تبدیلیوں کی نگرانی کرتا ہے اور انہی مختصر دنوں کے تسلسل کے باعث مستقبل میں ایک خاص قسم کی گھڑی کی تبدیلی — یعنی "نیگیٹو لیپ سیکنڈ" — کی ضرورت پیش آئے گی۔
یہ تبدیلی تاریخ میں پہلی بار ہوگی، جس کے تحت وقت میں ایک سیکنڈ کم کیا جائے گا تاکہ گھڑی کو زمین کی اصل گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جا سکے۔
یہ تاریخی تبدیلی 2029 میں کی جائے گی۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے اسکرپس انسٹی ٹیوشن آف اوشیونوگرافی سے وابستہ جیوفزسٹ ڈنکن ایگنیو کے مطابق یہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ "یہ کوئی بڑی تباہی لانے والا واقعہ نہیں، لیکن یہ ایک اہم اور قابلِ ذکر بات ضرور ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم واقعی ایک غیر معمولی وقت سے گزر رہے ہیں۔"