(ویب ڈیسک ) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکارہے اور اس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 200 سے زیادہ واقعات پیش آئے، 1200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، یہ حملے اب بھی جاری ہیں ، دہشت گردی کے حوالے سے یہ سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے اس میں لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد گروپ ہیں، سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان کی یہ پالیسی تھی کہ ان گروپس کو اس وقت نہ دہشت گرد سمجھا گیا نہ کہا گیا، دہشت گرد کا لفظ نائن الیون کے بعد آیا، اس سے پہلے ایسے گروپوں کو فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ جوکچھ افغانستان میں ہوا برصغیر میں ہونے والی دہشت گردی اس کا نتیجہ ہے، القاعدہ یا وہ تمام گروپ جن کا آپ نے ذکر کیا سب کی جڑیں ماضی میں افغان جہاد میں رہی ہیں، جب افغان جہاد ختم ہوا تو ان گروپوں نے القاعدہ میں جگہ بنائی اور نائن الیون والا حملہ کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاد کے نظریے کے تحت پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست میں ان گروپوں کی مخالفت نہیں کی گئی، پاکستانی گروپوں یا پاکستان سےتعلق رکھنے والےان افراد کی افغان جہاد کے لیے عالمی برادری کی طرف سے ٹریننگ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میرے والد اور دوسرے کہتے رہے ہیں پاکستان ماضی میں ایک پروسیس سے گزرا ہے جسے بھارت نے نظرانداز کیا، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کا ایف اے ٹی ایف نے بطور ادارہ تصدیق کر دی ہے۔
چیئرمین پی پی نے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف 2 ہزار 645 کیسز درج کیے، دہشت گردی کی مالی معاونت کیسز میں پاکستان نے 2 ہزار 727 افراد کو گرفتار کیا اور 549 افراد کو سزا دی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں حافظ سعید کو 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر 31 برس قید کی سزا دی گئی۔ ممبئی حملوں سے متعلق کیس عدالت میں ہے جس میں بھارت نے معاونت سے انکار کیا،ضروری گواہان کو اب تک پیش نہیں کیا، ممبئی حملوں سے متعلق ہمارے پاس کیس چل رہا ہے بھارت آئے اور اس میں حصہ لے،گواہان پیش کرے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے متاثرین کو انصاف ملے۔
انہوں نے کہا کہ ممبئی حملے کے ساتھ میں آپ کو 2007 میں ہونے والا سمجھوتا ایکسپریس حملہ بھی یاد کرانا چاہتا ہوں، سمجھوتا ایکسپریس حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، بھارت میں سمجھوتا ایکسپریس حملے پر نہ کوئی عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ اعترافی بیان بھی واپس لے لیا گیا، پاکستان تو کیس بھی چلا رہا ہے حملوں میں ملوث افراد کی سزاؤں کے لیےبھی پُرعزم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج تک بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت سامنے نہیں لا سکا، جنگ کے دوران بھارتی حکومت اور بھارت میڈیا نے بھارتی عوام سے جھوٹ بولا، دھوکہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھارت کی حمایت سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے، بلوچستان میں پکڑے جانے والے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن سے تو آپ بھی واقف ہوں گے، حالیہ جعفرایکسپریس دہشت گرد حملے کا براہ راست تعلق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے 2012 میں دہشت گرد گروپوں کی اطلاعات کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان کی اطلاعات پر بھارت نے دہشت گردی کے کئی حملوں کو روکا، پاکستان کسی گروپ کو پاکستان کے اندر اور باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا،۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہاتھ صاف تھے اس لیے بھارت کو آزاد بین الاقوامی انکوائری کی پیش کش کی لیکن بھارتی حکومت نے پاکستان کی پہلگام تحقیقات کی پیش کش نہیں مانی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت 25 کروڑ پاکستانیوں کا پانی بند کرنا چاہتا ہے،بھارتی عوام ڈس انفارمیشن سے بچے، اسکرین پر بیٹھے لوگ بھارتیوں کو نفرت کی طرف دھکیل رہے ہیں، میں نہیں چاہتا پاکستان اور بھارت کی جنریشنز کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر لڑتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے، اگر مسعود اظہر پاکستان میں ہو تو ہم فوری گرفتار کریں گے، بھارت کو پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع ہے تو میڈیا پر پاکستان کے خلاف چیخنے کے بجائے جامع مذاکرات کا حصہ بنے،اس سے دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف ریکارڈ کے مطابق پاکستان نےجیش محمد اور لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے، ایف اے ٹی ایف کے تحت لشکر طیبہ، جیش محمد اور ٹی ٹی پی کے ہتھیار ڈالنے والے ارکان بحالی پروگرام کا حصہ بنائے گئے۔ آپ تو ایف اے ٹی ایف پر بھی نہیں یقین کرتے لیکن ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی، ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر کے ہم نے عالمی برادری کو مطمئن کر دیا ہے، چاہے پاکستان میں ہو یا بھارت میں دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ بطور ریاست پاکستان تبدیل ہوا ہے یہ ایک حقیقت ہےکہ پاکستان میں دہشت گردی کےخطرات اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ عراق میں القاعدہ کو شکست دی گئی لیکن وہ داعش کی صورت میں دوبارہ اُبھرے، میں جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک خطہ دیکھنا چاہتا ہوں۔