مہنگائی پر قابو پا لیا،ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن، وزیر خزانہ نےاقتصادی سروے پیش کردیا

مہنگائی پر قابو پا لیا،ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن، وزیر خزانہ نےاقتصادی سروے پیش کردیا
کیپشن: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےقومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کر دیا

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے برائے مالی سال 2024- 25 پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جی ڈی پی گروتھ 2025 میں 2.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو عالمی معیشت میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محمد اورنگزیب نے عیدالضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت نے عالمی سطح پر چیلنجز کے باوجود بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے اور معاشی بحالی کا تسلسل 2024 کے بعد 2025 میں بھی جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی معاشی ریکوری کو عالمی منظرنامے میں بھی دیکھا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت میں کمی کے باوجود پاکستان نے اپنی معیشت میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ گلوبل جی ڈی پی گروتھ 2025 میں 2.8 فیصد پر ہےاور 2024 میں یہ شرح 2.5 فیصد تھی۔ پاکستان میں مہنگائی شرح 29 فیصد سے کم ہو کر 4.6 فیصد پر آ چکی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 میں ملکی جی ڈی پی گروتھ منفی 2 فیصد تھی لیکن اب ملکی مجموعی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو معاشی ترقی کی واضح علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر میں شاندار اضافہ ہوا، ہم کئی وزارتوں کو ڈیل کر چکے ہیں اور کئی محکموں کو ضم کرچکے ہیں، توانائی اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں، ہم نے اپنا فٹ پرنٹ ٹھیک کرنا ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 68 سے کم ہو کر 65 فیصد پر آگئی، پبلک فنانس پر بہت بات ہوتی ہے، پچھلے سال پالیسی ریٹ نیچے آیا۔

انرجی سیکٹر کے حوالے سے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انرجی سیکٹر میں ریفارمز کی گئی ہیں لیکن ہمیں انرجی سیکٹر میں لیکج روکنے پر خاص توجہ دینی ہو گی۔مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کا مقصد پائیدار معاشی استحکام کا حصول ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اچھے کاموں کی بنیاد وزیراعظم شہبازشریف نے رکھی، نگران حکومت نے بھی ان اچھے کاموں میں تسلسل برقراررکھا، نگران حکومت میں اچھے اقدامات کو سراہتا ہوں، ہم استحکام کی جانب گامزن ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے ہمارا اعتماد بحال ہوا، عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کا مقصد پائیدار معاشی استحکام کا حصول ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے ہمیں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے وسائل دستیاب ہوئے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا، شعبہ توانائی میں شاندار اصلاحات ہوئیں، ڈسکوز میں پیشہ ور بورڈز لگائے جس سے ڈسٹری بیوشن لاسز میں کمی آئے گی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ہر ٹرانسفارمیشن کیلئے دو سے تین سال درکار ہوتے ہیں، پاور سیکٹر اصلاحات میں ایک سال میں تاریخی ریکوری ہوئی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی گورننس میں بہتری آئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ انرجی اصلاحات کو اویس لغاری اور علی پرویز ملک تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں، ڈیسکوز کے بورڈ نجی شعبے سے لائے ہیں، اس سے کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، 1.27 ٹریلن روپے کے گردشی قرضے کے حل کے لیے بینکوں سے معاہدہ بھی ہوا ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ پچھلے سال پالیسی ریٹ نیچے آنے سے ڈیبٹ سروسنگ کی مد میں کافی بچت ہوئی، پنشن ریفارمز کے تحت ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن سسٹم کی طرف جا چکے ہیں، لیکیج کا روکنا بہت ضروری ہے، اس سلسلے میں رائٹ سائزنگ کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 43 وزارتیں اور 400 اٹیچ ڈیپارٹمنٹس کی رائٹ سائرنگ کی جارہی ہے، بجٹ میں بتاؤں گا کہ اسے آگے کیسے لے کر جائیں گے، اسے مرحلہ وار آگے لے کر جارہے ہیں، ہم وزارتوں اور محکموں کو ضم کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے، ریٹیل رجسٹریشن 74 فیصد ہوئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی تا اپریل 1.9 ارب ڈالر سرپلس رہا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 5 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، امپورٹس ہماری ساڑھے 16 فیصد بڑھی ہیں، آئی ٹی میں فری لانسرز نے 400 ملین ڈالرز کمائے ہیں۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی جارحیت پر افواج پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، اکنامک محاذ پر بھی ایک جنگ چل رہی تھی، ہماری افواج پاکستان نے اپنا لوہا منوایا۔

محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بیرونی شعبے میں دہرے بحرانوں کا المیہ رہا ہے، ایس آئی ایف سی کا فوکس انرجی، آئی ٹی، زراعت اور مائننگ پر ہے، لوکل انویسٹرز آئیں گے تو فارن انویسٹرز آئیں گے، 800 ارب قرضوں کی ادائیگی میں بچائے، مالیاتی ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں قرضوں کی ادائیگیوں میں جتنا بھی بچے گا اس کو دیگر سیکٹر میں لے جائیں گے، صنعتوں کی گروتھ میں 6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، خدمات کے شعبے میں دو فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے میں تین فیصد تک اضافہ ہوا ہے، زرعی شعبے کا اضافہ محض 0.6 فیصد تک بڑھا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کی وجہ سے زراعت کے شعبے میں ترقی ہوئی، برآمدات 6.8 فیصد اضافے سے 27 ارب 30 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئیں، معیشت کا حجم 372 ارب ڈالر کے مقابلے میں 411 ارب ڈالر ہو گیا ہے، فی کس آمدنی 162 ڈالر اضافے کے بعد 1824 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ حکومت پرائیویٹ سیکٹر سے آئندہ اپنی شرائط پر قرض لے گی، رواں مالی سال انفرادی فائلرز کی تعداد میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بیرون ملک پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے انویسٹ کررہے ہیں، پاسکو کرپشن کا گڑھ ہے اسے ختم کرنے جارہے ہیں، 2 سال کے دوران ترسیلات زر میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، مشینری کی امپورٹ میں اضافہ معیشت کیلئے خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا ہے کہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49 فیصد کمی ہوئی، آلو کی فصل میں 11.5 فیصد، پیاز میں 15.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مکئی میں 15.4 فیصد،چاول میں 1.4 فیصد کمی ہوئی، اسی طرح کپاس میں 30 فیصد، گندم میں 8.9 فیصد، گنے کی پیداوار میں 3.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

Watch Live Public News