ویب ڈیسک: عمان کے وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیتے ہوئے خطے میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب تنازع کے منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔
انہوں نے ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف جوابی کارروائی پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی میں کمی لاتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے کیونکہ فوجی کارروائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اگر لڑائی جاری رہی تو اس کے خطے کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے جبکہ سمندری راستے، سپلائی چین اور عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ملکی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر حملہ ہے۔
بیان کے مطابق ایران کی جانب سے 1400 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے جن کے باعث شہری ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی تنازع یا کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، تاہم بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔