ویب ڈیسک: آزاد کشمیر محکمہ ان لینڈ ریونیو میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ۔ انتخابات سے قبل سگریٹ کی غیر قانونی فیکٹریاں دوبارہ فعال ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں سگریٹ فیکٹریوں سے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ لینے کے کہانیاں سامنے آئیں ہیں۔ بھمبر میں 5 سگریٹ فیکٹریوں سے 5 کروڑ ماہانہ وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹیکس چوری کی وجہ سے بند سگریٹ فیکٹریاں دوبارہ فعال ہو گئیں ہیں۔ الیکشن اخراجات کیلئے سگریٹ انڈسٹری سے فنڈنگ کے لیے مبینہ ڈیلز کا دعویٰ ہوا ہے۔
اہم حکومتی وزیر پر ماہانہ 8 کروڑ روپے سگریٹ انڈسٹری سے رشوت لینے کا الزام ہے۔ ان لینڈ ریونیو کے کئی افسران بھی غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی ایک اہم حکومتی شخصیت مبینہ طور پر وفاقی اداروں کا نام استعمال کر کے سگریٹ فیکٹریوں کو فوائد پہنچا رہے ہیں۔
کچھ ہفتے پہلے زیر اعظم آزاد کشمیر کے حکم پر ڈیری فارم کی آڑ میں قائم سگریٹ تیاری کے یونٹ پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ مزکورہ غیر قانونی سگریٹ ساز یونٹ کی جانب سے اب دوبارہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر سے سیالکوٹ اور گجرات کے راستے بغیر ٹیکس ادا کیے سگریٹ پاکستان سمگل کیے جا رہے ہیں۔
ماضی میں سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کو غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کی طرف سے تین ارب روپے رشوت کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری سے ڈیل کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کی طرف سے الیکشن خریدنے کی پلاننگ کا انکشاف کر چکے ہیں۔