(ویب ڈیسک ) 27ویں آئینی کے مجوزہ ڈرافٹ پر مشترکہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔آئین کے آرٹیکل 200 میں ترامیم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے منظور کرلی گئیں۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق صدر مملکت ہائیکورٹ کے کسی بھی جج کو جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ٹرانسفر کرنے کے مجاز ہونگے، ہائیکورٹ سے ججز کے تبادلے کی صورت میں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ممبران ہونگے۔
مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوگا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا، ایسے کسی جج کا تبادلہ نہیں ہوگا جو دوسری عدالت کی سینیارٹی پر اثر انداز ہوکر چیف جسٹس سے سینئر ہو، ٹرانسفر ہونے والا جج دوسری عدالت کے چیف جسٹس سے سینئر نہیں ہوگا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق ٹرانسفر سے انکار پر جج کو ریٹائر کر دیا جائے گا،وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار پر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا متعلقہ جج ریٹائر تصور ہوگا، ریٹائرمنٹ کی صورت میں مقررہ مدت تک پنشن اور مراعات ججز کو دی جائیں گی۔