(ویب ڈیسک ) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے وعدوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا،افغان حکومت نے اصل مسئلہ دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات 6 نومبر کو استنبول میں ہوئے، مذاکرات کا تیسرا دور 7 نومبر کو ترکیہ میں اختتام پذیر ہوا، پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پاکستان نے گزشتہ چار برس میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا،طالبان حکومت سے توقع تھی کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کو تجارتی رعایتیں اور انسانی امداد فراہم کی، افغان طالبان حکومت نے وعدوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا، افغان حکومت نے اصل مسئلہ دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان امن اور سفارتکاری کا حامی ہے، طاقت کا استعمال آخری حل کے طور پر ہی کیا جاتا ہے، پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ وساطت پر مذاکرات میں شرکت کی، دوحہ میں پہلے دور میں تعاون کے اصولوں پر اتفاق ہوا تھا، پاکستان نے اس سمجھوتے کے تحت عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دوسرے دور میں عملدرآمد کا طریقہ طے کرنا مقصود تھا، افغان نمائندوں نے عملی اقدامات سے گریز کیا اور اشتعال انگیز بیانات دیے، پاکستان اپنے بنیادی مطالبے پر قائم رہا کہ دہشت گردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی ہو، افغان فریق نے دہشت گردی کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، طالبان حکومت جنگ بندی برقرار رکھنا چاہتی تھی مگر کارروائی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت نے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات دیے، طالبان حکومت پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہے،یہ دہشت گرد افغانستان میں تربیتی کیمپ چلا رہے ہیں، پاکستان نے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، طالبان حکومت نے بارہا عدم تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ نیت کا ہے، طالبان حکومت دہشت گردوں کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ انسانی مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردوں کو بچانے کا حربہ ہے، پاکستان ہر پاکستانی شہری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے بشرطِ تحویل۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی دہشت گرد گروہ سے بات چیت نہیں کرے گا، طالبان حکومت کے اندر کچھ عناصر غیر ملکی پشت پناہی سے پاکستان مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں، طالبان حکومت پاکستان کے بارے میں بے بنیاد پراپیگنڈا پھیلا رہی ہے، پاکستانی عوام اور افواج پاکستان ایک ہیں،پاک فوج قوم کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارہا طالبان حکومت سے دہشت گردوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، طالبان حکومت دہشت گردی میں اضافے کی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی، طالبان حکومت پاکستان میں پشتون قومیت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے، پاکستان میں پشتون قیادت ریاست کا حصہ ہے اور کلیدی عہدوں پر فائز ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کو اولین ترجیح حاصل ہے۔