امریکا-چین تجارتی کشیدگی میں شدت، تجارت میں 80 فیصد کمی کا خدشہ

امریکا-چین تجارتی کشیدگی میں شدت، تجارت میں 80 فیصد کمی کا خدشہ
کیپشن: امریکا-چین تجارتی کشیدگی میں شدت، تجارت میں 80 فیصد کمی کا خدشہ

ویب ڈیسک: امریکا اور چین کے درمیان تجارتی محصولات پر جاری کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس پر عالمی تجارتی تنظیم (WTO) نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں 80 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، WTO کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ٹیرف کی جنگ صرف ان ممالک کے لیے نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو عالمی پیداوار (GDP) میں طویل المدتی بنیادوں پر 7 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔

عالمی معیشت دو حصوں میں تقسیم؟

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید خراب ہوتے ہیں اور دنیا معاشی لحاظ سے دو حصوں میں بٹتی ہے، تو اس تقسیم کا اثر نہ صرف تجارتی سرگرمیوں پر پڑے گا بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔

WTO کے مطابق، اگر یہ رجحان جاری رہا تو دنیا بھر کی معیشتوں کو نہ صرف تجارتی بلکہ صنعتی و زرعی شعبوں میں بھی نقصان پہنچے گا، کیونکہ امریکا اور چین کا عالمی تجارت میں مجموعی حصہ تقریباً 3 فیصد ہے، لیکن اثرات بہت وسیع ہوں گے۔

ٹیرف کی جنگ، تازہ ترین صورتِ حال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دنیا کے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بدھ کو انہوں نے اعلان کیا کہ چین پر عائد محصولات کو بڑھا کر 125 فیصد کر دیا جائے گا، اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا۔
اس سے قبل، امریکا نے "لبریشن ڈے ٹیرف" کے تحت چین پر مجموعی طور پر 54 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔
جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیرف لگا دیا، اور دیگر تجارتی پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔
امریکا نے خبردار کیا کہ اگر چین نے یہ ٹیرف واپس نہ لیے تو وہ انہیں 104 فیصد تک بڑھا دے گا — جو اب باقاعدہ نافذ ہو چکا ہے۔
چین نے جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، اور مزید تجارتی پابندیوں کا عندیہ بھی دیا۔

ماہرین کی رائے

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تجارتی جنگ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے تنازعات بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کرتے ہیں اور معیشتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔

Watch Live Public News