جوڈیشل کمیشن نےسپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دیدی

جوڈیشل کمیشن نےسپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دیدی
کیپشن: جوڈیشل کمیشن نےسپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دیدی

ویب ڈیسک:جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق  ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ شفیع صدیقی کی بھی بطور جج سپریم تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔

 ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے جسٹس صلاح الدین پنور سندھ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری دی، اس کے علاوہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ کو بھی سپریم کورٹ جج تعیناتی کرنے کی کی منظوری دے گئی۔

ذرائع نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس شکیل احمد کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا عارضی جج تعینات کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں ہوا۔جس میں سپریم کورٹ کے 8 ججوں کی تعیناتیوں کیلئے ناموں پر غور کیاگیا۔

ذرائع نے بتایا ہے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی روکنے کا مؤقف اپنایا، کارروائی نہ رکنے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

سپریم کورٹ ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سینیٹر علی ظفر نے بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کیلئے پانچوں ہائی کورٹس کے 5 سینئر ججز کے نام طلب کئے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے 4 ججز سمیت ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے اجلاس ملتوی کرنے کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ رکھا ہے۔ 

ججز اور وکلاء کی جانب سے اجلاس مؤخر کرنے کیلئے چیف جسٹس کو متعدد خطوط لکھے جاچکے،جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ سپریم کورٹ کے مزید 2 سینئر ججز جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی خط لکھا۔چاروں ججز نے خط میں ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا۔

ججز نے خط میں کہا کہ عوام میں تاثر یہ ہے کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے کورٹ پیکنگ کی جارہی ہے، ججز نے خط میں کہا کہ 26ویں ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دے کر پہلے اسکا فیصلہ کیا جائے،ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر علی ظفر نے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز بھی چیف جسٹس کو خط لکھ کر اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا،وکلا ایکشن کمیٹی ، لاہور، کراچی بار اور اسلام آباد کی تینوں بار کونسلز نے بھی اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا۔

وکلا نے اجلاس مؤخر نہ کرنے کی صورت میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے،انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، اجلاس کے تناظر میں ریڈ زون جانے والے راستے بند کرئیے گئے،ریڈ زون میں انٹری کیلئے صرف ایک راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

وکلاء کی ہڑتال، اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ، سڑکیں بند

رپورٹ کے مطابق سرینا چوک ایکسپریس چوک نادرا چوک سے ریڈ زون انٹری بند کر دی گئی، ریڈ زون بند کرنے کے باعث ٹریفک روانگی متاثر گاڑیوں کی رش لگ گئی، مارگلہ روڈ سے ریڈ زون داخلے کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ دفتر خارجہ سمیت ریڈ زون دفاتر جانے والے شہری بھی رل گئے۔

وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون میں صرف مار گلہ روڈ سے داخلے کا راستہ دیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ کےساتھ ساتھ موبائل فون سروس بھی متاثر

وفاقی دارالحکومت میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بنتے ہی انٹرنیٹ غائب ہوگیا، وکلاء کے احتجاج کے پیش نظر انٹرنیٹ کی بندش سے شہری پریشان ہوگئے،انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ موبائل فون سروس بھی بری طرح متاثر ہے جبکہ سروس نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں بھی کام رُک گئے۔

ملک بھر کی بار کونسلز نے جوڈیشل کمیشن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا

ملک بھر کی بارکونسلز نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف ہڑتال کی کال کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا، جس میں بار کونسلز نے جوڈیشل کمیشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار، پنجاب بار کونسل ، کے پی بار کونسل، بلوچستان اور سندھ ہائیکورٹ بارز ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ قانونی برادری میں تقسیم پیدا کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، 26 ویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ ہے، ہر شہری کو اسکی پاسداری کرنی ہوگی، ہڑتال کے فیصلے کا اختیار صرف منتخب نمائندوں کو حاصل ہے،غیر منتخب عناصر کو وکلا مسترد کریں۔

وکلا کا ممکنہ احتجاج، پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس جزوی بند

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میٹرو بس سروس فیض احمد فیض اسٹیشن سے سیکرٹریٹ تک بند ہے تاہم راولپنڈی کے صدر سٹیشن سے فیض احمد فیض سٹیشن تک بس سروس بحال رہے گی۔

انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں میٹرو بس سروس سکیورٹی وجوہات کے باعث بند رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں وکلا کے ممکنہ احتجاج کے سبب میٹرو بس سروس کو محدود کیا گیا ہے۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کی عدالت سے کیسز ملتوی کرنے کی اپیل 

اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن نے عدالت سے کیسز ملتوی کرنے کی اپیل کردی، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وکلا راستوں کی بندش کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو پارہے، عدالت عالیہ کے معززججز صاحبان سے گزارش ہے کہ کیسز پر کوئی عبوری حکمنامے جاری نا کریں۔

Watch Live Public News