ویب ڈیسک: ایران بھر میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
احتجاج میں شدت آنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند اور بین الاقوامی فون لائنز منقطع کر دی ہیں۔
An Iranian girl burns a picture of Ayatollah Khamenei and lights her cigarette, a new trend in Iran!
— Dr. Maalouf (@realMaalouf) January 10, 2026
Young Iranian women are leading the revolution against the Islamic regime.
pic.twitter.com/UIFYHMPBGA
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان میں بعض خواتین کو سپریم لیڈر کی تصاویر نذرِ آتش کرتے ہوئے اور انہی شعلوں سے سگریٹ جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک اور وائرل ویڈیو میں متعدد افراد کو آگ کے گرد شور شرابا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ویڈیو کے کیپشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران میں خواتین اسکارف جلا کر احتجاج کر رہی ہیں۔
Burning headscarves in Tehran tonight.
— dahlia kurtz ✡︎ דליה קורץ (@DahliaKurtz) January 10, 2026
Iranians are also setting fire to possessions of the regime forces, including cars, mosques, and their homes.
They are sending Khamenei a message.
But they are also trying to send the world a message.
Please help spread it. pic.twitter.com/pTIrAMzVFu
ایرانی قوانین کے مطابق سپریم لیڈر کی تصاویر جلانا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران کے کئی علاقوں میں خواتین کے سگریٹ پینے پر برسوں سے سماجی اور قانونی پابندیاں یا حوصلہ شکنی کی جاتی رہی ہے۔
ان مناظر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا ایرانی خواتین اس طرزِ احتجاج کے ذریعے سیاسی، سماجی اور ذاتی آزادیوں سے متعلق کوئی علامتی پیغام دینا چاہتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ احتجاج دسمبر کے اواخر میں شروع ہوا تھا، جسے مبصرین 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کا سب سے بڑا احتجاجی سلسلہ قرار دے رہے ہیں۔
ادھر امریکی جریدے ٹائم میگزین کے مطابق تہران کے ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ملک کے صرف چھ اسپتالوں میں کم از کم 217 مظاہرین کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر افراد گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گئے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔