ویب ڈیسک: لاہور سمیت ملک بھر میں مون سون کا تگڑا اسپیل جاری ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے 3 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہو گئے۔
لاہور میں مون سون کا اب تک کا سب سے تگڑا سپیل جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں بارش جاری ہے، بارش 150 ملی میٹر کا ہندسہ کراس کرگئی ہے ۔ سب سے زیادہ بارش 162 ملی میٹرنشتر ٹائون میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
تیز بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ لاہور کے متعدد علاقوں، جیسے لکشمی چوک، مال روڈ، گڑھی شاہو، سمن آباد، اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور ٹاؤن شپ میں موسلادھار بارش کے سبب سڑکیں تالاب بن گئیں، جبکہ بجلی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ لیسکو کے 260 سے زائد فیڈرز بند ہو گئے، جس سے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، ننکانہ صاحب، قصور، گجرات، گوجرہ، نارووال اور دیگر شہروں میں بھی شدید بارش ہوئی، جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے، سڑکوں کو کلیئر کرنے، اور پی ڈی ایم اے کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ واسا حکام کو فیلڈ میں موجود رہنے اور نکاسی آب کے عمل کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق مختلف حادثات میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ شیخوپورہ میں چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ دیگر زخمی ہوئے۔ وہاڑی، بھکر، ڈی جی خان، اٹک اور لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے، بائیک سلپ ہونے، اور کرنٹ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی شدید بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جبکہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش نے موسم خوشگوار کر دیا۔
کراچی میں بھی صبح سویرے بوندا باندی ہوئی، اور دن بھر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 13 جولائی تک جاری رہے گا، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔