ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کے نظام میں اہم تبدیلیوں کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی اور نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ مختلف آمدنی رکھنے والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ متوازن انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے ملازمین کو سب سے زیادہ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ 12 لاکھ روپے (ماہانہ ایک لاکھ روپے) تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کر کے 3 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی طرح سالانہ 22 لاکھ روپے (تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار روپے ماہانہ) تک آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 5 فیصد جبکہ سالانہ 32 لاکھ روپے (تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ) تک تنخواہ پانے والوں کے لیے 10 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق زیادہ آمدن والے طبقات کو بھی ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سالانہ 41 لاکھ روپے یا اس سے زائد آمدن پر عائد موجودہ 35 فیصد انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز زیرِ غور ہے۔
بجٹ تجاویز میں سالانہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ایک نئی ٹیکس سلیب متعارف کرانے کی بھی تجویز شامل ہے، تاکہ اعلیٰ آمدن والے طبقے کے لیے ٹیکس ڈھانچے کو مزید منظم بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں، اس آمدنی کے زمرے پر عائد 10 فیصد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر International Monetary Fund کی جانب سے مکمل خاتمے کی منظوری نہ ملی تو سرچارج کو کم کر کے 5 فیصد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
حتمی فیصلے کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد متوقع ہے، جس کے بعد ان تجاویز کی باقاعدہ منظوری یا رد و بدل کی صورت حال واضح ہو سکے گی۔