(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،آج میکرو سطح پر ملکی معیشت مستحکم ہے۔روزگار کے مواقع ، برآمدات ، معاشی بہتری اور پیداواری صلاحیت بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے مشاورت اور معاونت پر تمام وزرائے اعلیٰ کا مشکور ہوں، وفاق نے ہر معاملے پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ صوبوں سے مشاورت کی۔ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،آج میکرو سطح پر ملکی معیشت مستحکم ہے۔روزگار کے مواقع ، برآمدات ، معاشی بہتری اور پیداواری صلاحیت بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مشکلات کے باوجود کوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خطے کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ،صوبوں نے اس حوالے سے بھرپور تعاون کیا۔ تیل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول پمپوں پر لائنیں دیکھنے میں آئیں ۔بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں عوام کو پیٹرول دستیاب رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی۔یہ سب ٹیم ورک کے نتیجے میں ممکن ہوا۔بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے۔صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے کے حوالے سے مشاورت ہوئی۔زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے وسائل درکار ہیں ۔ پوری قوم خصوصا خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام دہشت گردی کیخلاف قربانیاں دے رہے ہیں ۔دہشتگری کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل تحسین ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع کیلئے وسائل درکار ہیں ،دہشتگردی کے ناسور کا متحد ہو کر خاتمہ کرنا ہوگا۔یقین ہے باہمی اتحاد و اتفاق کے نتیجے میں دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ ہوگا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ معاشی ترقی کیلئے وسائل درکار ہیں ،مجموعی قومی پیداوار میں معیشت کے مختلف شعبوں کو مراعات دینا ہوں گی۔ہمارے اقدامات کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ اور معیشت ترقی کرے گی ۔گزشتہ رات آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے بات چیت ہوئی، آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔