ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اب واقعی مذاکرات کرنا چاہتا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ بات چیت کا انحصار شرائط پر ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ بات چیت کن شرائط پر ہوتی ہے۔ انہوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ خطے میں امن کے ساتھ رہ سکیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ مؤثر رہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ایک موقع پر خام تیل 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، تاہم بعد ازاں کمی کے بعد یہ تقریباً 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔