ویب ڈیسک: پاکستان نے بھارت میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس میں فتح میزائل استعمال کیے گئے جو کہ زمین سے زمین پر کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پاس فتح میزائل کے 2 ورژن موجود ہیں،فتح ون 150 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ فتح 2 میزائل 400 کلومیٹر ترک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ، فتح 2 میزائل سیٹیلائٹ کی مدد سے اپنے ہدف کا تعین کرتاہے۔

تاریخی پس منظر
7 جنوری 2021 ء کو پہلی بار آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر گائیڈڈ ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم تیار کرلیا گیا ہے۔
اس میزائل سے قبل پاک آرمی چینی ساختہ اے-100 سسٹم استعمال کر رہی تھی، جس کی رینج 100 کلو میٹر تھی جبکہ فتح-1 کی حد ظرب 140 کلو میٹر ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’ پاکستان نے فتح سیریز کے گراؤنڈ لانچڈ آرٹلری راکٹ سسٹمز کا استعمال کیا ہے جو کہ امریکی ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (HIMARS) سے مشابہ ہیں اور جنھیں یوکرین میں انتہائی درستگی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘یہ میزائل سسٹم مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سیریز کے مزید میزائلوں کی تیاری میں پاکستان کو سپلائی کی کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق فتح سیریز میں ون، ٹو، تھری اور فور میزائل شامل ہیں جن میں فتح ون اور ٹو 400 کلومیٹر تک رینج رکھتے ہیں اور یہ دونون فوج کے آپریشنل استعمال میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان فتح فور پر بھی کام کر رہا ہے جس کی رینج 700 کلومیٹر ہے۔
رپورٹ کے مطابق فتح سیریز کے میزائلوں کی خاصیت ان کی درستگی کے ساتھ نشانے بنانے کی صلاحیت ہے: ’یہ انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، یہ سپر سونک ہیں اور یہ ٹرمینل سٹیج میں مینوورایبل میزائل ہیں۔‘ان کی سب سے اہم خاصیت ’مینوورایبل ان ٹرمینل سٹیج ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بیلسٹک میزائل سسٹم اس کو ہٹ نہیں کر سکتا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں آج علی الصبح بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کیا گیا جسے آپریشن بنیان المرصوص (آہنی دیوار) کا نام دیا گیا ہے۔