ویب ڈیسک: اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی غزہ میں کئی ماہ سے جاری خونریز جھڑپوں کے بعد عارضی جنگ بندی مؤثر ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ امن منصوبے سے متعلق اسرائیلی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم، وزرا کے علاوہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں امن منصوبے اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
The government has just now approved the framework for the release of all of the hostages – the living and the deceased.
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) October 9, 2025
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کے بیشتر وزرا نے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ کے اندر سے جزوی طور پر انخلا کرے گی اور نئی پوزیشنز پر منتقل ہوگی۔ تاہم فوج علاقے کے تقریباً 53 فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کے لیے 72 گھنٹوں کا وقت دیا گیا ہے، جس کے دوران حماس تمام اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے گی۔
یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر نگرانی تیار کیے گئے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق غزہ میں ایک مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس میں مصر اور قطر کے فوجی شامل ہوں گے، تاہم کسی امریکی اہلکار کو غزہ میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جنگ بندی کے بعد ہمیں امید ہے کہ امن، سلامتی اور استحکام بحال ہوگا، آج کا دن تاریخی ہے کیونکہ غزہ اور مغربی کنارے میں آخرکار خونریزی ختم ہو گئی ہے۔"