ویب ڈیسک: پاکستان میں آٹو انڈسٹری اور عام صارفین کے لیے خوشخبری ہے کہ حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی ٹیرف اصلاحات کے بعد ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح کمی متوقع ہے۔ یہ انکشاف منصوبہ بندی کمیشن سے منسلک تحقیقی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق حالیہ برسوں میں امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح بہت زیادہ رہی، جس کی وجہ سے نہ صرف پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا بلکہ عام عوام کے لیے گاڑی خریدنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ نتیجتاً ملک میں گاڑیوں کی فروخت اور ملکیت کی شرح جمود کا شکار ہو گئی۔
پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق، اب حکومت نے مرحلہ وار اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کے تحت مکمل تیار شدہ یونٹس (CBU) اور سی کے ڈی کٹس پر عائد درآمدی ٹیرف میں کمی کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں توقع ہے کہ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، جس سے عام صارفین کے لیے گاڑیاں خریدنے کی استطاعت بہتر ہو گی۔ طلب میں اضافے کے نتیجے میں نہ صرف آٹو انڈسٹری میں بہتری آئے گی بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اصلاحات کے تحت مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ٹیرف آئندہ پانچ برسوں میں بتدریج 20 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد تک لایا جائے گا۔ دوسری جانب، استعمال شدہ گاڑیوں پر ٹیرف کو مالی سال 2026 سے نئی گاڑیوں کے مقابلے میں 40 فیصد زائد سرچارج کے ساتھ شروع کیا جائے گا، جو ہر سال 10 فیصد کی شرح سے کم ہوتا رہے گا اور بالآخر 2030 تک نئی گاڑیوں کے مساوی ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ان اصلاحات سے ایک جانب صارفین کو ریلیف ملے گا تو دوسری طرف آٹو موبائل انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ زیادہ صارفین گاڑی خریدنے کے قابل ہو جائیں گے۔ نتیجتاً ملکی سطح پر گاڑیوں کی ملکیت میں اضافہ ہوگا اور آٹو سیکٹر معیشت کی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گا۔
یہ پالیسی نہ صرف گاڑیوں کی دستیابی بہتر بنائے گی بلکہ آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے، جو مجموعی طور پر پاکستان کی صنعتی ترقی کے لیے خوش آئند قدم ہے۔