مودی سرکار کی آبی جارحیت جاری، دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری

مودی سرکار کی آبی جارحیت جاری، دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری
کیپشن: مودی سرکار کی آبی جارحیت جاری، دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری

ویب ڈیسک: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید سیلابی پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت آبی وسائل کو اس کی اطلاع دی۔ جس کے بعد وزارت آبی وسائل نے فوری طور پر سیلاب الرٹ جاری کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق، بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کے نتیجے میں دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ مزید بڑھ جائے گا۔ فی الحال ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے شہریوں کو الرٹ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ روز بھی دریائے ستلج میں پانی چھوڑا تھا، جس سے سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 62 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 98 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں قادر اباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 98 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔

اس کے علاوہ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 26 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 80 ہزار کی کیوسک ہے۔ دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 21 ہزار کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر محکمے الرٹ ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

Watch Live Public News