ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ میں بنچز کی تشکیل اور مقدمات کی مارکنگ سے متعلق تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات پر سوالات اٹھا دیے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو آئندہ بغیر قانونی بنیاد کے کوئی بھی مقدمہ سنگل بنچ سے ڈویژن بنچ میں منتقل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ آئندہ تمام مقدمات کی مارکنگ اور ٹرانسفر عدالت کے طے شدہ قواعد و ضوابط اور ہدایات کے مطابق کی جائے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بنچز کی تشکیل یا مقدمات کی دوبارہ مارکنگ صرف اس وقت ممکن ہے جب اس کے لیے قانونی جواز موجود ہو، یا متعلقہ جج اپنی معذرت ظاہر کرے۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض مقدمات، جن میں طے شدہ کارروائی ہو چکی تھی، انہیں کسی واضح وجہ کے بغیر دوسرے بنچز کو منتقل کر دیا گیا، جس سے عدالتی نظام میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی۔
عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ رولز اور آرڈرز کے تحت کیسز کی مارکنگ کا اختیار ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو حاصل ہے، جبکہ چیف جسٹس کو روسٹر کی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت کے مطابق یہ دونوں اختیارات الگ الگ نوعیت کے ہیں اور ایک کو دوسرے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
فیصلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ قائم مقام چیف جسٹس کی ہدایت پر کچھ کیسز مختلف سنگل بنچز سے اٹھا کر ڈویژن بنچ ٹو کو منتقل کر دیے گئے، لیکن اس فیصلے کے لیے نہ تو کسی قانون کا حوالہ دیا گیا اور نہ ہی کوئی معقول وجہ بیان کی گئی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر ڈپٹی رجسٹرار کسی کیس کو کسی اور بنچ میں منتقل کرنا ضروری سمجھے تو وہ متعلقہ جج کے ریڈر سے مشاورت کرے تاکہ غیر ضروری غلط فہمی یا انتشار سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ جو جج بنچ میں سینئر ہو، کیس اس کے سامنے لگایا جائے۔
عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بنچ کی تشکیل ایک حساس عدالتی عمل ہے، اور اسے انتظامی اختیارات کی طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس معاملے میں قائم مقام چیف جسٹس کی طرف سے جاری احکامات کو قانونی اور اصولی بنیادوں پر کمزور قرار دیا۔
فیصلے کے اختتام پر عدالت نے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہائیکورٹ رولز اور سیول پروسیجر کوڈ (CPC) سے رہنمائی لینے کی تجویز دی، تاکہ عدالتی کارروائی شفاف اور ضابطے کے مطابق جاری رکھی جا سکے۔