ویب ڈیسک: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی قیادت کی خواہش تھی کہ ان مذاکرات کی قیادت جے ڈی وینس کے سپرد کی جائے۔
ایرانی حکام جے ڈی وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں نسبتاً زیادہ جنگ مخالف شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس اہم ملاقات سے قبل تہران کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
تہران کو یقین ہے کہ جے ڈی وینس وہ واحد امریکی شخصیت ہیں جو نیک نیتی کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اگرچہ اس بات کے واضح شواہد موجود نہیں کہ وہ دیگر امریکی نمائندوں کے مقابلے میں کوئی نرم رویہ اختیار کریں گے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ دونوں فریق براہ راست آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ واشنگٹن اور تہران دونوں پر اس مہنگے اور سیاسی طور پر حساس تنازع سے نکلنے کا دباؤ موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ڈی وینس کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ براہ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے، اور کسی بھی حتمی معاہدے کا فیصلہ بھی صدر خود کریں گے، تاہم جے ڈی وینس کی موجودگی مذاکرات کے رخ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہے، لیکن پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایران کس حد تک نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے۔
ان مذاکرات کے نتائج دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ بات چیت ایک ایسے تنازع سے نکلنے کا موقع ہے جس پر اندرونی سطح پر تنقید جاری ہے، جبکہ ایران کے لیے یہ معاشی اور فوجی دباؤ میں کمی کا راستہ بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی جے ڈی وینس کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ انہیں ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جے ڈی وینس کے ہمراہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ ہیں، تاہم ایرانی حکام ان دونوں شخصیات کے بارے میں اب بھی تحفظات رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جن میں قالیباف ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے جے ڈی وینس کی شمولیت کی حمایت کی تھی۔
ان تمام کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ واشنگٹن ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کو مسترد کرتا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔
ان مشکل حالات میں جے ڈی وینس ایک ایسی سفارتی کوشش کا حصہ بننے جا رہے ہیں جسے ماہرین یا تو ایک تاریخی موقع قرار دے رہے ہیں یا پھر ایک بڑا سیاسی جوا۔