ویب ڈیسک: بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے حالیہ خطاب میں آپریشن سندور سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جنرل دویدی نے اعتراف کیا کہ یہ آپریشن بغیر کسی جامع منصوبہ بندی اور خطرات کے درست اندازے کے شروع کیا گیا۔ ان کے مطابق بھارتی فوج کو یہ علم تک نہیں تھا کہ پاکستان کا ممکنہ ردعمل کتنا شدید اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی آئی ٹی مدراس میں بھارتی فوج کے تحقیقاتی سیل کے افتتاح کے دوران خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے آپریشن کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس آپریشن میں آگے کیا کرنا ہے اور پاکستان کس حد تک جواب دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مئی کے پہلے ہفتے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت بھارتی فضائیہ نے بہاولپور سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان ایئر فورس نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے چھ جنگی طیارے، جن میں رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے۔
پاکستان نے 10 مئی کو بھارتی ایئر بیسز، میزائل ڈپو اور دیگر فوجی تنصیبات کو "فتح" میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس سے بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس صورتحال میں بھارت نے جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، اور پاکستان نے ثالثی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے آپریشن روک دیا۔
بھارتی فوج ماضی میں اپنے نقصانات چھپاتی رہی ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے جنگ کے دوسرے ہی روز ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ بھارت کے متعدد طیارے مار گرانے کے ثبوت پیش کیے گئے۔ پاکستان ایئر فورس کے ایئر وائس مارشل کے مطابق جنگ کا نتیجہ "0-6" پاکستان کے حق میں رہا۔