ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کے امور خارجہ کے مشیر محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ تزویراتی طور پر ڈھاکہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ کسی علاقائی گروپ میں شامل ہو جائے۔
صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں توحید حسین نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ صرف بنگلہ دیش کے لیے ممکن ہے، جبکہ نیپال یا بھوٹان کے لیے بھارت کو چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ گروپ بنانا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔
یہ ریمارکس حالیہ اسلام آباد کنکلیو میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیان کے ردعمل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش، چین اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی اقدام شروع ہو چکا ہے اور اس میں خطے کے اندر اور باہر کے دیگر ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، توحید حسین نے کہا کہ اسحاق ڈار کے بیان میں کچھ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں اس میں پیش رفت ہو۔
واضح رہے کہ رواں سال اگست میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 13 سال بعد پہلی بار بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے حالیہ مہینوں میں خوشگوار ملاقاتیں کی ہیں۔
تازہ سیاسی صورتحال کے بعد، خصوصاً گزشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے بعد، اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں، جبکہ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو پناہ دینے والا دہلی نسبتاً دور رہا ہے۔