پاکستان میں ٹی ٹی پی کی ایما پر دہشتگردی کے حملے مسلسل جاری ہیں: امریکی میگزین

پاکستان میں ٹی ٹی پی کی ایما پر دہشتگردی کے حملے مسلسل جاری ہیں: امریکی میگزین

ویب ڈیسک: امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی قیادت کی ہدایت پرپاکستان میں دہشت گردی کے حملے مسلسل جاری ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے منظم حملوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی سیاسی خواہش اور صلاحیت دونوں سے محروم، سرحد پار حملے جاری ہیں،  روایتی مسلح اتحادیوں پر انحصار کے باعث طالبان ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف سخت اقدامات سے گریزاں ہیں۔ 

 طالبان کے نزدیک ٹی ٹی پی اور دیگر گروہ داخلی اختلافات روکنے اور مخالف دھڑوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہیں،داعش خراسان کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی طاقت طالبان حکومت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

 طالبان کو خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت پالیسی سے ان کے اہلِ کارداعش خراسان میں شامل ہو سکتے ہیں،  طالبان امیر ہیبت اللہ چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان افغانستان کو سخت گیر نظریاتی پالیسی کے تحت متحد رکھا جائے، جس سے اعتدال پسند اقدامات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔

 طالبان مختلف مسلح گروہوں کو خطے کے ممالک کے ساتھ سفارتی و تجارتی leverage کے لیے استعمال کر رہے ہیں، طالبان کے لیے بھارت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک بہتر انتخاب ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ سی پیک کی افغانستان تک توسیع اس کی وسطی ایشیا تک رسائی محدود کر دے گی،  طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو جگہ دینا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

طالبان کے لیے ٹی ٹی پی سے تعلق توڑنا مشکل، مگر پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی اسی فیصلے سے جڑی ہے۔  

Watch Live Public News