ویب ڈیسک: لیبیا میں پاکستانیوں سمیت 65 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک اور کشتی کو گزشتہ روز ہولناک حادثہ پیش آیا۔ کشتی پر 16 پاکستانیوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ جس میں سے 7 کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق کشتی حادثے میں جاں بحق 7 پاکستانی خیبر پختون خواہ کے رہائشی تھے ۔حادثے میں جاں بحق 6 افراد کا تعلق ضلع کرم اور 1 کا باجوڑ سے ہے۔جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت ان کے پاسپورٹ سے کی گئی ہے۔
سفارت خانے حکام کے مطابق کشتی پر پاکستانیوں سمیت 65 مسافر سوار تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے میں 16 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔سفارت خانے کےمطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 10 افراد کی لاشیں سمندر سے نکالی جا سکی ہیں۔
جاں بحق پاکستانیوں کے نام منظرعام پر آگئے:
ایف آئی اے کے مطابق 6 مسافر کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد اور فیصل آباد ائیرپورٹس سے گئے جن میں ثقلین حیدر، شعیب حسین، عابد حسین، سراج الدین، سید شہزاد حسین، شعیب علی اور نصرت حسین شامل ہیں۔
امیگریشن ذرائع کا بتانا ہےکہ ایک مسافر شعیب حسین 10 جنوری 2025 کو تفتان بارڈر سے ایران گیا تھا، مسافر ثقلین حیدر 9 فروری 2024 کو کراچی ائیرپورٹ سے سعودیہ گیا جبکہ مسافر عابد حسین 25 نومبر 2024 کو کوئٹہ ائیرپورٹ سے مصر گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ مسافر سراج الدین 31 دسمبر 2022 کو پشاور ائیرپورٹ سے سعودی عرب گیا اور سید شہزاد حسین نے 25 دسمبر 2024 کو اسلام آباد ائیرپورٹ سے سعودیہ کا سفر کیا۔
ذرائع کے مطابق مسافر شعیب علی نے 19 نومبر 2024 کو فیصل آباد ائیرپورٹ سے سعودیہ کا سفر کیا جب کہ مسافر مسرت حسین نے 20 ستمبر کو 2024 کوئٹہ ائیرپورٹ سےامارات کا سفر گیا۔
وزیراعظم نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی:
وزیراعظم شہباز شریف نے لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
منگل کو وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کے حکام کو ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی شناخت کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا کہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا بیان:
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے لکھا ہے کہ یورپ جانے کےجال میں پھنس کر سمندر میں ڈوبنے والے پاکستانیوں کے سانحات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انسانی اسمگلرز اپنے مکروہ کاروبار کو بلا خوف جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان انسان نما درندوں کیخلاف FIA کابھرپور اور موثر ایکشن لازم ہوچکا ہو جو انکی صفائی تک جاری رہنا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے لکھا کہ وزارت داخلہ توجہ مرکوز کرے ؟؟
انسانی اسمگلروں کیخلاف 153مقدمات درج:
رواں سال 2025 کے دوران ایف ائی اے لاہور نے انسانی اسمگلروں کے خلاف 153 مقدمات درج کئے۔رواں سال کے دوران انسانی اسمگلنگ میں ملوث 46 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں انتہائی مطلوب اشتہاریوں اور کشتی حادثات میں ملوث انسانی اسمگلر بھی شامل ہیں۔رواں سال کے دوران 58 مقدمات کے چالان مجاز عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ 13 مقدمات میں مجاز عدالتوں نے ملزمان کو سزائیں سنائیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون سرفراز کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔انسانی اسمگلروں کی گرفتاری کے لیے انٹلیجینس بیسڈ آپریشن جاری ہے۔