(ویب ڈیسک ) پاک بحریہ کے زیر اہتمام کثیرالقومی مشق امن 2025 شمالی بحیرہ عرب میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے شاندار انعقاد کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق امن مشق 2025 میں تقریبا 60 ممالک نے اپنے بحری جنگی جہازوں، ایئر کرافٹ، میرینز، اسپیشل آپریشن فورسز اور بڑی تعداد میں مبصرین کے ساتھ حصہ لیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں پاک بحریہ اور غیر ملکی بحری جنگی جہازوں کی جانب سے امن فارمیشن کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشق " امن کے لیے متحد" موٹو کے تحت پاکستان کی امن اور باہمی تعاون پر مبنی سلامتی کے لیے غیر متزلزل حمایت کی عکاس ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاک بحریہ کے جہاز معاون آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا، اس موقع پر گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر برائے سمندری امور بھی موجود تھے۔

علاوہ ازیں، شریک ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز، غیر ملکی بحری افواج کے سربراہان، سینئر ملٹری آفیسرز، دفاعی اور نیول اتاشی بھی اس تقریب میں شریک تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مہمان خصوصی نے انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے دوران مختلف آپریشنل مشقوں کا مظاہرہ دیکھا۔ فلیٹ ریویو میں پاکستان نیوی، پاکستان ایئر فورس اور شریک غیر ملکی طیاروں کا شاندار فلائی پاسٹ بھی پیش کیا گیا ، فلائی پاسٹ کے بعد مشق میں حصہ لینے والے بحری جہازوں کی جانب سے مین اینڈ چیئر شپ کا مظاہرہ کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مشق کا اختتام روایتی امن فارمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہوا جو بحری تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مہمان خصوصی نے امن 2025 کی کامیاب میزبانی پر پاک بحریہ کو مبارکباد دی اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔انہوں نے میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون کے عزم کا اظہار کرنے پر شریک علاقائی و عالمی بحری افواج کا شکریہ ادا کیا۔
مہمان خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ امن 2025 ایک ایسا فورم بن کر سامنے آیا ہے جس نے تمام عالمی جغرافیائی طاقتوں کو “محفوظ سمندر ،خوشحال مستقبل“ کے مشترکہ مقصد کے تحت جمع کیا ۔ جس کی عملی عکاس دنیا بھر سے بحری افواج کی اس مشق میں بھرپور شرکت ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مشق کے ساتھ منعقد ہونے والے پہلے امن ڈائیلاگ نے دنیا بھر سے آئی بحری قیادت کو بحری مسائل پر باہمی بات چیت کا موقع فراہم کیا۔