ویب ڈیسک: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں امریکی دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کی ملاقاتوں پر امریکی محکمہ خارجہ نے ردعمل دیا ہے۔ ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ انہیں اُمید ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے موجودہ دورِ صدارت میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی اہم پیش رفت کر سکیں گے۔
ترجمان ٹیمی بروس سے پریس بریفنگ کے دوران اس ملاقات کی تفصیلات سے متعلق سوال کیا گیا جس میں پاکستانی وفد نے محکمہ خارجہ کے انڈر سیکریٹری برائے سیاسی امور، ایلیسن ہوکر، سے ملاقات کی۔ سوال کیا گیا کہ آیا امریکی حکام نے کسی قسم کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے بھارت کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس پر جواب دیتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے پچھلے ہفتے ایلیسن ہوکر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے تسلسل پر تبادلہ خیال ہوا اور امریکا کی جانب سے اس عمل کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایلیسن ہوکر نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی میں تعاون سمیت دیگر امور پر بات چیت کی۔ تاہم جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ آیا پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے، تو ترجمان نے کہا کہ وہ ان ملاقاتوں کی مخصوص تفصیلات پر تبصرہ نہیں کر سکتیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کے بعد اب کیا اقدامات متوقع ہیں، اور کیا امریکا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرے گا، ٹیمی بروس نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا ہے، اس بارے میں قیاس نہیں کر سکتیں۔ تاہم، انہوں نے یہ ضرور کہا کہ صدر ٹرمپ کا ہر اقدام بین الاقوامی تنازعات ختم کرنے اور مختلف قوموں و نسلوں کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے سے جڑا ہوتا ہے۔
ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ وہ شخصیت ہیں جو ایسے افراد کو مذاکرات کی میز پر لے آئے جنہیں کبھی دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے ان کے منصوبوں پر کوئی پیشگی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا، البتہ دنیا ان کی قیادت کی صلاحیت سے آگاہ ہے۔
ترجمان نے اس موقع کو ایک "ولولہ انگیز لمحہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، اور ہر دن مسئلہ کشمیر سے متعلق نئی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے صدر ٹرمپ اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی دیرپا حل تلاش کر سکیں گے۔