ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد کرنا اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں رد و بدل شامل ہے۔
وفاقی بجٹ 2025-26 کی تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں (ٹو اور تھری وہیلرز) کے لیے ایک نئی انرجی وہیکل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، تاکہ شہری روایتی ایندھن کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دیں۔
بجٹ تجاویز کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر کاربن لیوی رواں مالی سال ڈھائی روپے اور آئندہ سال 5 روپے تک عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرنس آئل پر بھی پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی مقررہ شرح کے مطابق نافذ کی جائے گی۔
حکومت نے ہائبرڈ، پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح میں یکسانیت لانے کا عندیہ دیا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ وہ تمام گاڑیاں جو اس وقت 18 فیصد سے کم سیلز ٹیکس کے دائرے میں آتی ہیں، اُن پر بھی 18 فیصد کا عمومی سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے۔
فی الحال 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، لیکن نئی تجویز کے تحت یہ شرح بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات الیکٹرک گاڑیوں کی فروغ میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن دوسری جانب متوسط طبقے کے لیے ہائبرڈ گاڑیوں کی خریداری مہنگی ہو سکتی ہے۔