وفاقی بجٹ عوام دشمن اور غیر متوازن ہے، مڈل کلاس پر بوجھ بڑھایا گیا: مزمل اسلم

وفاقی بجٹ عوام دشمن اور غیر متوازن ہے، مڈل کلاس پر بوجھ بڑھایا گیا: مزمل اسلم
کیپشن: وفاقی بجٹ عوام دشمن اور غیر متوازن ہے، مڈل کلاس پر بوجھ بڑھایا گیا: مزمل اسلم

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کے نام پر دھوکہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 لاکھ سالانہ کمانے والے کو صرف 2 ہزار روپے ماہانہ، جبکہ 18 لاکھ آمدن والوں کو محض 4 ہزار روپے ماہانہ کا ریلیف دیا گیا ہے، جو مہنگائی کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہے۔

مزمل اسلم نے دعویٰ کیا کہ 30 لاکھ سالانہ آمدن والے ملازمین کو بھی صرف 18 ہزار روپے ریلیف دیا گیا ہے، جو حقیقی معنوں میں ایک مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مڈل کلاس آبادی مہنگائی، ٹیکسز اور حکومتی پالیسیوں کی بدولت بدترین معاشی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت کے مطابق مہنگائی کم ہو رہی ہے تو پھر غربت کی شرح میں اضافے کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔ "ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 45 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں"، مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا۔

مزمل اسلم نے بجٹ میں شامل کاربن لیوی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا پیش خیمہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کے گردشی قرضے ختم کرنے کے نام پر بجلی کی قیمت میں سرچارج شامل کرنے کا فیصلہ بھی عام عوام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے بجٹ میں سولر مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس کو " غریب عوام کے ساتھ زیادتی" قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ ماحولیاتی اصلاحات کے دعووں کے بھی خلاف ہے۔

مزمل اسلم نے بینک اور میوچل فنڈز پر منافع کے ٹیکس میں 15 سے 20 فیصد اضافے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ اقدام بچت کلچر کی حوصلہ شکنی کرے گا۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ "حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ معیشت بہتر ہو گئی ہے، مگر ترقیاتی فنڈز صرف 1000 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ پچھلے سال 1400 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔"

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں خیبرپختونخوا کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ "ایک ہزار ارب روپے میں سے خیبرپختونخوا کے لیے صرف 54 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔"

آخر میں، مزمل اسلم نے آن لائن شاپنگ پر 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کو بھی عام صارفین پر اضافی بوجھ قرار دیا اور کہا کہ بجٹ میں زراعت اور صنعت جیسے اہم شعبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

Watch Live Public News