ویب ڈیسک: پنجاب حکومت کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے۔
پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 520 جاری جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیمیں اب تک نئے بجٹ ڈرافٹ میں شامل کی گئی ہیں، 520 جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیموں کی مد میں 135 ارب 29 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، 6 دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 57 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب بجٹ کی تیاری جاری ہے، کچھ وقت لگے گا، بجٹ ٹیکس فری ہوگا، عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمان کی زیر صدارت پنجاب ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہوا، رواں مالی سال محصولات کے رجحان اوروصولیوں میں بہتری کے لیے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔
آ ئند ہ مالی سال میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے اہداف کا تعین کارکردگی اور پوٹیشیل کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا ، محصولات میں اوسطاً 20 فیصد کی شرح سے مسلسل اضافہ خوش آ ئند ہے ۔
آ ئند ہ مالی سال میں محصولات میں اضافے کے لیے ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ کو یقینی بنایا جائے گا ، نئے ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن میں مسلسل اضافہ بھی خوش آ ئند ہے ، پی آر اے میں اب بھی بہت پوٹینشل باقی ہے ، استعداد کار میں اضافہ کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب کا مالی سال 2025-26 کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، سندھ حکومت بھی نئے سال کا بجٹ 136 جون کو ہی پیش کرے گی۔
پنجاب حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے تاریخ ساز ترقیاتی بجٹ دینے کا اعلان کیا، ذرائع کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے، اب تک 353 ارب سے زائد کی 853 اسکیمیں نئے بجٹ میں شامل کی جاچکی ہیں۔