ویب ڈیسک:پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہم نے بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستانی قوم کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کر دکھایا، سیز فائر کی ہم نے کوئی درخواست نہیں کی، یہ خواہش بھارت کی تھی، مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت میں امن نہیں آ سکتا۔
پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت میں معصوم شہری شہید ہوئے، جس کے خلاف پاکستان نے بھارت کے خلاف آپریشن ’بنیان مرصوص‘ شروع کیا, پاک فوج پاکستان کی بہادر اور غیور عوام کا شکریہ ادا کرتی ہے، جو اپنی افواج کے ساتھ کھڑے رہے، ہماری تمام ہمدردیاں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہیں, پاکستان نے دو مقامات پر بھارت کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اس کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان نے راجوری اور نوشہرہ میں ملٹری بریگیڈ کو تباہ کیا، اس کے علاوہ سورت گڑھ، سرسہ، آسم پور، اونتی پورہ، اودھم پور اور پٹھان کوٹ میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کامیابی سے اُڑی نیٹ ورکس اسٹیشن اور پونچھ ریڈار کو بھی نشانہ بنایا, لائن آف کنٹرول پر ان جگہوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں آزاد کشمیر کے معصوم شہریوں پر گولہ باری کی جاتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان کا بھارت کو جواب بروقت اور تاریخی رہا ہے، پاکستان نے ان اہداف کو نشانہ بنایا جہاں سے ہمارے ملک پر حملے ہورہے تھے۔
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں فتح سے نوازا، پاکستان نے تمام حملے انتہائی مہارت کے ساتھ کیے تاکہ سول آبادی کو کوئی نقصان نہ پہچنے, بھارت نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، ہم نے دشمن کے خلاف فتح گائیڈڈ میزائل ون اور ٹو کا استعمال کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے، اگر ہماری خودمختاری پر حملہ کیا جائے گا تو بھرپور جواب دیں گے۔ افواج پاکستان بھرپور صلاحیتوں کی مالک ہے، جن کا محدود کا استعمال کیا گیا ہے اور کچھ آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔ افواج پاکستان نے بھرپور سائبر حملے بھی کیے، اور دشمن کو اس سے بھی پریشان کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزرا کے مشکور ہیں، جنہوں نے مشکل وقت میں اہم فیصلے کیے۔ اس کے علاوہ ہم پاکستان کے میڈیا کے شکر گزار ہیں جو بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے سامنے آہنی دیوار کی طرح کھڑا رہا۔ ہم اُن نوجوانوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو سائبر کے محاذ پر صف اول کے سپاہی بنے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ ہم نے پہلے بتایا تھا کہ جب ہم جواب دیں گے تو بھارتی میڈیا کو دکھانے کی ضرورت نہیں پڑےگی، اسے عالمی میڈیا رپورٹ کرےگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب مشرقی سرحد پر افواج پاکستان دفاع میں مصروف تھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کو اپنی پراکسیز کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں بھارت میں ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے،ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ کوئی بھارتی پائلٹ ہمارے پاس نہیں ہے, سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہماری طرف سے سیز فائر کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، یہ خواہش بھارت کی جانب سے سامنے آئی تھی، تاہم اب ہماری فورسز سیز فائر معاہدے پر سختی سے عمل پیرا ہیں، لیکن اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ہم بھرپور جواب دیں گے۔ پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی پسند کی جگہ اور وقت پر جواب دیں گے جو کر دکھایا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی پوزیشن کلیئر ہے، مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی حملوں میں انفراسٹرکچر اور ایک ایئر کرافٹ کو نقصان پہنچا ہے، جو جلد آپریشنل ہو جائےگا، بھارت کے 84 ڈرون مار گرائے، آئندہ بھی اگر کوئی ایسی کوئی کوشش کی جائے گی تو جواب دیا جائےگا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ ہم اللہ کی مدد سے دہشتگردی پر قابو پا لیں گے، دہشتگردی کا ہمارے رسم و رواج اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کو بھارت اسپانسر کررہا ہے، کتنی کوشش کی گئی کہ افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالی جائے، لیکن سب کے سامنے ہے کہ قوم کس طرح متحد ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ حماقت ہوگی، کیوں کہ یہ دونوں کے لیے تباہی کے مترادف ہوگا، اسی لیے ہم نے اس تنازع میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا؟
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتا دیا کہ بھارت کے خلاف کیے گئے آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ کیا آپریشن کا نام چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے تجویز کیا تھا؟
اس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان میں اسلام نہ صرف اس کا مذہب ہے بلکہ یہ ان کی تربیت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہمارا نصب العین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’الحمدللہ ہمارے آرمی چیف راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لہٰذا جو لیڈرشپ ہوتی ہے اس کے عقیدہ اور عزم کی جھلک آپریشن میں دکھائی دیتی ہے‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ نام (بنیان مرصوص) بتاتا ہے کہ جو مومنین ہوتے ہیں، اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہوتے ہیں اور وہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ہم آہنی دیوار ہیں، الحمدللہ پاکستان کی افواج نے یہ ثابت بھی کردیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاک بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز نے کہاکہ 6 اور 7 مئی کو جب بھارت نے حملے کیے تو پاکستان نیوی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے بھرپور تیار تھی۔ پاکستان نیوی کی تیاری دیکھ کر ہی دشمن کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ دوران جنگ پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا، ہم بھارتی نیوی کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کو نیوی نے یقینی بنایا، ہم پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہی متحرک ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ سمندری حدود سے کوئی بھی بھارتی جارحیت ہوتی تو بروقت جواب مل جاتا اور ہم اس کے لیے تیار تھے، پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کو نیوی نے یقینی بنایا، ہم پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہی متحرک ہوگئے تھے، سمندری حدود سے کوئی بھی بھارتی جارحیت ہوتی تو بروقت جواب مل جاتا اور ہم اس کے لیے تیار تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے کہاکہ بھارتی کے خلاف کارروائی کے دوران ایئر چیف خود ساری صورت حال کو مانیٹر کررہے تھے، ہمیں بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں 0-6 سے کامیابی ملی، بھارتی فضائیہ نے جارحیت کی تو ہم نے ان کے طیارے مار گرائے، ہمارے ریڈار بھارتی طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ بھارت نے ڈرون طیاروں سے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایئرفورس کی بہترین کارکردگی پر اللہ کا شکرگزار ہوں، پاک فضائیہ نے امن اور جنگ میں اپنی تیاری مکمل رکھی ہوئی ہے، ایئر چیف نے ہمیں جو ہدایات جاری کیں ان پر عمل کیا، دفاع کا حق استعمال کیا اور ان اہداف کو نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جے ایف 17 تھنڈر جہاز پاکستان کا فخر ہیں، رافیل بھی اچھا جہاز ہے، لیکن اصل بات پائلٹ کی تربیت کی ہوتی ہے۔